site
stats
پاکستان

بجٹ خوشی نہیں موت کا پیغام لار ہا ہے، خورشید شاہ

اسلام آباد : قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا ہے کہ بجٹ خوشی نہیں موت کا پیغام لا رہا ہے پہلے ہی غریب خود کشی کررہے ہیں لیکن حکومت کوغربت کا احساس تک نہیں ہے۔

وہ اپنی بجٹ تقریر کو سرکاری ٹی وی پر براہ راست نشر نہ کرنے اور وزیراعظم کی بجٹ سیشن میں عدم موجودگی کی بناء پر احتجاجآ واک آؤٹ کر کے اسمبلی باہر اپوزیشن جماعت کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے جب کہ دوسری جانب اسمبلی میں بجٹ سیشن بغیر اپوزیشن ارکان کے جاری ہے۔

خورشید شاہ نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے اپنے دور حکومت میں 3 لاکھ لوگوں کو روز گار دیا اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 125 فیصد تک اضافہ کیا جس سے سرکاری ملازمین میں خود اعتمادی میں اضافہ ہوا اور کارکردگی میں بھی بہتری آئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ماحولیاتی آلودگی سے ہرسال ایک لاکھ 10 ہزارلوگ مرتے ہیں کیوں کہ یہاں سے درخت ہی ختم کر دیئے گئےہیں جب کہ پانی کا مسئلہ ہو ش اڑانے کیلئے کافی ہے۔


* سرکاری ٹی وی پربجٹ تقریر براہ راست نشر نہ  کرنے پر خورشید شاہ کا واک آؤٹ 


خورشید شاہ نے کہا کہ ہمارے دور میں سیلاب آئے لیکن گروتھ ریٹ میں خود کفیل رہے اور ہم نے ملک بھر کے کسانوں، مزدوروں اور ملازمین کو سہولیات دیں ان کے جائز حقوق دیئے جب کہ آج کسانوں پرشیلنگ کی جا رہی ہے لاٹھیاں برسائی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کی فیڈریشن مضبوط ہو لیکن وفاق سندھ کو اس کے جائز حقوق نہیں دے رہا ہے جب کہ ملک کے سب سے بڑے شہرکراچی میں پانی اور بجلی سمیت بنیادی سہولتیں دستیاب نہیں ہیں۔

خورشید شاہ نے کہا کہ بھارت بجٹ کا 7 فیصدایگر ی کلچرپررکھتا ہے جب کہ پاکستان میں یہ افسوسناک حد تک صرف1.5 فیصد ہے جب کہ ہم خود کو ایک زرعی بھی ملک کہتے ہیں۔

خورشید شاہ نے کہا کہ پاک بھارت پانی کے تنازع پرہمارا کافی نقصان ہو رہا ہے اس لیے اس مسئلے کو عالمی سطح پر اُٹھانا بے حد ضروری ہو گیا ہے اور اس میں تاخیر مذید نقصان کا باعث ہو گی۔

اپوزیشن لیڈر نے مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر نہال ہاشمی کے حالیہ متنازعہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دھمکیاں دینے والے پہلے مجھے کونسلر بھی منتخب ہوکر دکھائیں تو جانوں کہ کتنی حیثیت ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top