لاٹھی اورجیل سے ڈرنے والا کبھی لیڈر نہیں بن سکتا، خورشید شاہ -
The news is by your side.

Advertisement

لاٹھی اورجیل سے ڈرنے والا کبھی لیڈر نہیں بن سکتا، خورشید شاہ

سکھر : پیپلز پارٹی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ ہم گالم گلوچ کی سیاست نہیں کرتے، تین مہینے میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والے چار سال بعد کہتے ہیں کہ 2018 میں لوڈشیڈنگ ختم ہوگی، حکمرانوں نے کسانوں کہ بعد تاجروں سے بھی دھوکہ کیا

ان خیالات کا اظہارانہوں نے روہڑی نیشنل ہائی وے کے قریب جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا، خورشید شاہ نے عمران خان کا نام لیے بغیر ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک لیڈرکبھی کرکٹرزکو تو کبھی مہمانوں کو گالیاں دیتا ہے۔ لاٹھی اور جیل سے ڈرنے والا کبھی لیڈر نہیں بن سکتا۔

جلسہ عام سے خطاب میں خورشید شاہ نے کہا کہ بھٹو نے اندرا گاندھی سے کہا تھا کہ ملک کے ایک انچ کی حفاظت کیلئے ایک ہزار سال تک جنگ کروں گا لیکن اب بھارتی وزیر اعظم سے رشتے قائم کیے جارہے ہیں۔ شادی بیاہ اور منگنی کی دعوتیں دی جاتی ہیں، شادی کی دعوت میں وزیروں اور دیگر رہنماؤں کو نہیں بلایا جاتا مگر گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کے قاتل کا بانہیں کھول کر استقبال کیاجاتا ہے اگر یہ کام پیپلزپارٹی کرتی تو اسے میڈیا غدار قرار دے دیتا۔

انہوں نے کہا کہ موجود حکمرانوں نے کسانوں کہ بعد تاجروں سے بھی دھوکہ کیاہے، ان کے 230 ارب روپے واپس کرنے کی تقریب میں میڈیا کے سامنے انہیں خالی لفافے تھمادیئے گئے۔

پھروہ اگلے سال الیکشن ہیں دوبارہ عوام کے سامنے آکر کہیں گے کہ میرے غریب مزدور اور کسان بھائیو میں آپ کیلئے سستی روٹی لینے کیلئے کبھی امریکا تو کبھی لندن تو کبھی کسی دوسرے ملک گیا اب الیکشن میں مجھے ووٹ دیکر کامیاب کرو میں دوبارہ آپ کیلئے سستی روٹی کا بندوبست کروں گا۔

خورشید شاہ نے کہا کہ پنجاب کے لوگوں کو کیا ہوگیا ہے؟ شعور رکھنے والے لوگ کیوں سیاست میں الجھ پڑے ہیں ایک لیڈرکبھی کرکٹرزکو تو کبھی مہمانوں کوگالیاں دیتاہے۔

اس کے ورکرزباہرلاٹھیاں کھاتے ہیں اور وہ جھروکوں سے دیکھتا ہے جو پولیس کی لاٹھیوں اور جیل سے ڈر جائے وہ لیڈر نہیں بن سکتا، اقتدارعوام کی خدمت کیلئے ہوتا ہے چوری اور کرپشن کیلئے نہیں ہوتا۔

حکومت کے وزیر درست کہتے ہیں کہ لوڈشیڈنگ ختم ہوگئی ہے کیونکہ ان کے گھروں کی بجلی نہیں جاتی انہیں کیا پتا کہ باہر کیا ہورہا ہے؟

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ میں پانی کی قلت ہے اور وفاق پانی جمع کررہا ہے، میاں صاحب ایسا نہ ہو کہ سندھ ،خیبر پختونخوا بلوچستان اور پنجاب ایک ہوجائیں اور آپ کو باہر کردی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں