The news is by your side.

Advertisement

آمدن سے زائداثاثہ جات کیس : خورشیدشاہ 8 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کےحوالے

سکھر: آمدن سے زائداثاثہ جات کیس میں احتساب عدالت نے پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ کو 8 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کےحوالے کردیا اور یکم اکتوبرکو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔

تفصیلات کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب ) کی جانب سے آمدن سے زائداثاثہ جات کیس میں گرفتار پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کو سخت سیکیورٹی میں سکھر کی احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔

خورشید شاہ کی پیشی کے موقع پر بڑی تعداد میں جیالےبھی پہنچے، اس موقع پرشدید دھکم پیل دیکھنے میں آئی۔

سماعت شروع ہوئی نیب کی جانب سے خورشید شاہ کے15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی اور فاضل جج کو خورشید شاہ کی گرفتاری کی وجہ بھی بتائی۔

نیب وکیل نے بتایا کہ خورشیدشاہ پر آمدن سے زائداثاثے رکھنے پر انکوائری شروع کی ہے، خورشید شاہ انکوائری میں نیب سے تعاون نہیں کررہے، انکوائری میں تعاون نہ کرنے پرخورشید شاہ کو گرفتار کیا گیا۔

جس پر وکیل صفائی نے کہا خورشید شاہ کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے، سکھرمسائل سے توجہ ہٹانے کےلیےخورشید شاہ کو گرفتار کیا گیا، 2014 میں بھی نیب نے انہی الزامات کے تحت انکوائری کی تھی، ہائی کورٹ کے حکم پر 2014 میں نیب نے ہی کیس ختم کیا تھا۔

جج نےنیب سے خورشیدشاہ کی گرفتاری سےمتعلق دستاویز طلب کرتے ہوئے کہا گرفتاری اورالزامات کے حوالے سے دستاویزات جمع نہیں کرائے، جس پر وکیل نیب نے کہا دستاویزات ساتھ نہیں لائے ،دفتر میں موجود ہیں تو جج کا کہنا تھا کہ آدھے گھنٹے کا وقت دیتا ہوں،نیب تمام دستاویزات پیش کرے، بغیر دستاویزات 15دن کاریمانڈ نہیں دے سکتا۔

نیب ٹیم خورشید شاہ سےمتعلق شواہد لیکراحتساب عدالت پہنچی تو جج جج امیرعلی مہیسر کے چیمبرمیں خورشید شاہ کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی ، نیب ٹیم نےعدالت میں خورشیدشاہ کے بنگلے کے حوالے سے بھی شواہد پیش کئے۔

جس کے بعد سکھر کی احتساب عدالت نے خورشیدشاہ کو 8 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کےحوالے کردیا اور نیب حکام کو خورشیدشاہ کو یکم اکتوبرکو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے خورشید شاہ کو طبی سہولیات، گھر سے کھانا منگوانے اور فیملی سےملاقات کی بھی اجازت دے دی۔

مزید پڑھیں :  خورشید شاہ کا21 ستمبر تک راہداری ریمانڈ منظور

یاد رہے گذشتہ روز اثاثہ جات کیس میں گرفتار خورشید شاہ کو طبیعت میں بہتری پر پولی کلینک اسپتال سے ڈسچارج کیا گیا تھا، جس کے بعد نیب نے راہداری ریمانڈ پر خورشید شاہ کو اسلام آباد سے سکھر منتقل کیا تھا۔

واضح رہے 18 ستمبر کو نیب سکھر اور راولپنڈی نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے آمدن سے زاید اثاثہ جات کیس میں خورشید شاہ کو گرفتار کیا تھا ، بعد ازاں احتساب عدالت نے خورشید شاہ 21 ستمبر تک راہداری ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں