قطری شہزادے کے خط نے شکوک و شبہات کو جنم دیا، خورشید شاہ -
The news is by your side.

Advertisement

قطری شہزادے کے خط نے شکوک و شبہات کو جنم دیا، خورشید شاہ

منڈی بہاء الدین : قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ نواز شریف کی جانب سے قطری شہزادے کو خط پیش کرنے سے لگتا ہے کہ کچھ اور ہی معاملہ ہے، حکومت نے سپریم کورٹ میں قطر کے شہزادے کا خط پیش کرکے آبیل مجھے مار والا کام کیا ہے کیونکہ اس کاغذ نے مزید شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ کیا قطری شہزادے کو پہلے یاد نہیں تھا کہ میرے ابا نے میاں شریف کے ساتھ کوئی کاروبار کیا؟

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منڈی بہاء الدین میں پی پی کے مقامی رہنما مرزا اکرام بیگ کی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا کہ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ قطری شہزادے کو عدالت بلوا کر جرح کرسکتی ہے، پیپلز پارٹی نے پارلیمنٹ میں پاناما لیکس کے نام سے کرپشن کے خلاف بل لانے کی کوشش کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ترک صدرکی پاکستان آمد پر صوبوں کو نظرانداز کیا گیا، چاروں وزرائے اعلیٰ ایوان میں موجود ہونے چاہئے تھے اور اس حوالے سے اپوزیشن جماعتوں کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چوہدری نثارکی کن باتوں پریقین کریں وہ صبح کو کچھ اورشام کو کچھ بیان دیتے ہیں، صرف گو بابا گو کی سیاست کے طرزعمل سے حکومتیں نہیں چلاکرتیں۔

خورشید شاہ نے بتایا کہ پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب میں دسمبر کے آغاز میں تنظیم سازی شروع کررہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی ایی او سی پر دراندازی پاکستان کی کمزوری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے طیب اردوان کو خوش کرنے کے لئے پاک ترک اسکولوں پابندی لگائی، ترک فاوٴنڈیشن کے معاملے پر حکومت کو دیکھنا چاہیے اورترکش اساتذہ کو پاکستان سے نکالنا نہیں چاہیے کیونکہ سیاست اور تعلیم الگ الگ چیزیں ہیں۔

نئے گورنر سندھ کی تعیناتی کے حوالے سے سید خورشید شاہ نے کہا کہ گورنر سندھ کو تعینات کرنا شاید حکومت کی غلطی ہے، نوازشریف نے ان کو دیکھا نہیں ہوگا ورنہ وہ ان کی تعیناتی کا فیصلہ نہ کرتے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں