The news is by your side.

Advertisement

جسٹس (ر) جاوید اقبال کا ماضی شفاف ہے، دلیرانہ فیصلے کریں گے، خورشید شاہ

اسلام آباد : قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ نئے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید قبال کا ماضی گواہ ہے کہ وہ کوئی ڈکٹیشن نہیں لیتے چنانچہ انہیں متنازع بنانے کے بجائے کام کرنے دیا جائے۔

وہ میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب کے نام پر تمام اپوزیشن جماعتوں کے اتفاق سے ہوا ہے اور کسی اپوزیشن جماعت نے اس پہ شکوہ سامنے نظر نہیں آیا۔

خورشید شاہ نے کہا کہ ایمانداری سے کہتا ہوں کہ نئے چیئرمین نیب کے نام پر مک مکا نہیں ہوا ہے اور نہ ہی کسی نے ان پر تنقید کی ہے کیوں وہ شفاف ماضی اور دلیرانہ فیصلوں کی وجہ سے اچھی شہرت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور ایم کیوایم پاکستان کے ناموں پر بھی بات ہوئی لیکن سب سے موزوں نام جس پر سب کا اتفاق ہوا تھا وہ جسٹس (ر) جاوید اقبال تھے چنانچہ اب چیئرمین نیب کومتنازع نہ بنائیں۔

اپوزیشن لیڈرخورشید شاہ نے کہا کہ نوازشریف کہہ دیں حسن اورحسین نواز پاکستانی شہری نہیں ہیں بلکہ دہری شہریت رکھتے ہیں اور پاکستان کے آئین و قانون کی پاسداری کرنے پر مجبور نہیں یا پھر انہیں احتساب عدالت میں پیش کریں۔

خورشید شاہ نے کہا کہ جب تک پارلیمنٹ ہے تب تک سازش کا مقابلہ کریں گے اور جمہوریت کو ڈی ریل ہونے نہیں دیں گے، ساتھ ہی ملک کی بہتری کے لیے ہمیں بہتر فیصلے کرنے ہوں گے۔

اس موقع پر صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے قائد حزب اختلاف نے کہا کہ اللہ کرے کہ ہمیں موقع ملے کہ پارلیمنٹ کی معیاد مکمل ہونے پر نگراں وزیراعظم کو بھی چیئرمین نیب کی طرح متفقہ طور پر منتخب کریں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں