site
stats
پاکستان

تحریک انصاف کے رہنما عمران خان کو سیاست سکھائیں، خورشید شاہ کا مشورہ

imran khan

اسلام آباد : اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کو مشورہ دیا ہے کہ عمران خان کو سیاست سکھائیں، عمران خان کے بیانات متحدہ اپوزیشن کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتےہیں۔

تفصیلات کے مطابق قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے چیئرمین تحریک انصاف کے آصف زرداری مخالف بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی باتوں سے اپوزیشن کا اتحاد خطرے میں پڑسکتا ہے، بیانات کے نتیجےمیں بہت سی خطرناک باتیں نکلیں گی، اپوزیشن کا اتحاد قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خورشید شاہ نے عمران خان کی سوچ کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر تحریک انصاف یہ سمجھتی ہے کہ وہ نوازحکومت سے اکیلے مقابلہ کرسکتی ہے تو یہ غلط ہوگ، اپنے اپنے ظرف کی بات ہے، عمران خان جس کو کامیابی سمجھ رہے ہیں اس میں ستر فیصد کام پیپلز پارٹی نے کیا۔

اپوزیشن لیڈر نے معاملہ عدالت لے جانے کا کریڈٹ امیر جماعت اسلامی سراج الحق کو دیا۔

خورشیدشاہ نے پی ٹی آئی رہنماؤں کو مشورہ دیا کہ وہ عمران خان کو سیاست سکھائیں، پی ٹی آئی چیئرمین نے بطور وزیراعظم شیخ رشید کے نام میں جلدی کی، شاہ محمودقریشی کیساتھ طے ہوا تھا مل کر فیصلہ کریں گے، تحریک انصاف ملکر نہیں چلناچاہتی ہے تو اپناامیدوار کھڑا کرلیں، متحدہ اپوزیشن مشاورت کے بعدامیدوار کا نام فائنل کرے گی۔


مزید پڑھیں : میچ ختم نہیں ہوا، اب آصف زرداری کی باری ہے، عمران خان


یاد رہے کہ پاناما کیس میں نواز شریف کی نا اہلی کے بعد یوم تشکر کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ مجھے خوشی ہے کہ اپنے سامنے زندہ قوم کو دیکھ رہاہوں، پانامہ کیس کا فیصلہ تو ہو چکا ہے لیکن ابھی یہ میچ ختم نہیں ہوا، اب آصف زرداری کی باری ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے بعد آصف زرداری اب تمہاری باری ہے، فضل الرحمان ہم تمہیں بھی نہیں چھوڑیں گے، تمہارے پیچھے بھی آؤں گا، شہباز شریف اور شاہد خاقان عباسی کا بھی احتساب کروائیں گے، خاقان عباسی ، شہبازشریف ہمارا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوجاؤں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top