The news is by your side.

Advertisement

قوم کو بتایا جائے کہ ڈان لیکس مسئلے میں کون رکاوٹ تھا اور کیسے حل ہوا؟خورشید شاہ

اسلام آباد  : اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے ڈان لیکس معاملے پر کہا ہے کہ قوم کو بتایا جائے کہ مسئلے میں کون رکاوٹ تھا اور کیسے حل ہوا، یہ ملک کی سیکیورٹی اور اداروں کا مسئلہ تھا۔

تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قائد حزبِ اختلاف خورشید شاہ نے کہا کہ ڈان لیکس معاملے میں اصل ذمہ دار وزیراعظم ہاوس تھا، قوم کو بتایا جائے کہ کیا مسئلہ تھا جس کے باعث ڈیڈلاک پیدا ہوا تھا۔

انھوں نے کہا کہ گورنرسندھ میڈیا پر کہہ چکے ہیں، وزیراعظم ہاوس میں اجلاس سنے جاتے تھے، وزیر اعظم ہاوس کے میڈیا سینٹر میں ساری باتیں سنی جاتی تھیں۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا پیپلز پارٹی اداروں کی جنگ نہیں چاہتی، ہمیں اب آگے بڑھنا چاہئے، اب دیکھتے ہیں پاناما پر کیا حشر ہوتا ہے، پیپلزپارٹی نےہمیشہ اداروں کی مضبوطی کی بات کی، ہمسایہ ممالک خصوصا انڈیا فوج کو متنازع بنانا چاہتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ابھی دیکھتے ہیں پاناما لیکس پر کیا حشر ہوتا ہے، قطری خط کو بھی سپریم کورٹ کے 5ججزنےمسترد کیا ، جے آئی ٹی صاف ستھری ہے، ثابت ہوچکا ہے کہ منی ٹریل نظرنہیں آتی، آصف زرداری سے ملاقات میں سیاسی صورتحال پر بات چیت ہوئی،  آصف زرداری سے جے آئی ٹی کے حوالے سے بھی بات ہوئی۔


مزید پڑھیں : وزیراعظم ہاؤس ڈان لیکس کا ذمہ دار ہے، اصل مجرموں کو بچایا جارہا ہے، خورشید شاہ


گذشتہ روز قائد حزب اختلاف خورشیدشاہ کا کہنا تھا کہ ڈان لیکس وزیر اعظم ہاؤس سے لیک ہوئی، وزیراعظم ہاؤس اس کا ذمہ دار ہے، ڈان لیکس میں اصل مجرموں کو بچایا جارہا ہے، پیپلز پارٹی معاملے کو الجھالنےکیلئے بنائی گئی جے آئی ٹی کو نہیں مانتی، ججز جن اداروں کو کوستے رہے، انہی اداروں سےجےآئی ٹی میں تفتیش کروائی جا رہی ہے، ڈان لیکس کے حقیقی مجرم کو سزا تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سرحدوں پرکشیدگی ہے ، حکومت کو فوری قومی اسمبلی کااجلاس طلب کرنا چاہیے، ایران پاکستان مخالف کبھی نہیں رہا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں