The news is by your side.

Advertisement

دہشت گردی کی تازہ لہرکا مقصد پاکستان کوغیرمستحکم کرنا ہے، خورشید شاہ

سکھر : قائد حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ سیہون دھماکے کوعالمی واقعات کےتناظرمیں دیکھنا چاہیے کیوں کہ کچھ قوتیں پاکستان کوغیرمستحکم دیکھنا چاہتی ہیں۔

وہ سکھر میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ تواتر کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کیوں ہورہے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد ناگزیر ہے جس کے بغیر امن کا قیام ناممکن ہے۔

خورشید شاہ نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اُٹھایا کہ ملک کو موثرخارجہ پالیسی کی ضرورت ہے لیکن ہمارے یہاں وزیر خارجہ ہی نہیں ہیں تو پالیسی کہاں ہو گی؟

انہوں نے کہا کہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کوغیرمستحکم اور تنہا کیوں کیا جا رہا ہے؟ ہمیں ان وجوہات کا تعین ہی نہیں کرنا ہے بلکہ ان کا سدباب بھی کرنا ہے۔

خورشید شاہ نے کہا کہ بہت سی قوتیں پاکستان کومستحکم نہیں دیکھنا چاہتیں اورایسی کوششیں کی جا رہی ہیں جن سے پاکستان میں من پسند پارٹیوں کو لا کراپنا ایجنڈا پورا کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی تاریخ دہشت گردوں اور دہشت گردی کا مقابلہ کرتے گذری ہے جس کے لیے ہماری قیادت تک نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں