The news is by your side.

Advertisement

اہانت مذہب کے نام پر ہم نے عدالتیں لگا رکھی ہیں، خورشید شاہ

اسلام آباد: قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا ہے کہ ہم نے خود عدالتیں لگا رکھی ہیں جس کے باعث 1990 سے اب تک 65 افراد کو توہین رسالت کے نام پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

وہ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ توہینِ رسالت کے قانون کا معاملہ بہت اہم اور حساس ہے جس کے لیے ایک متفقہ بیانیہ ترتیب دینا ہوگا کہ شر پسند اس قانون کو اپنے منفی مفادات کے لیے استعمال نہ کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ مشال خان اس ملک کا بچہ تھا جسے اہانتِ مذہب کے نام پرشہید کر دیا گیا اور ایک روشن مستقبل کو تاریک کر کے ملک کے نوجوانوں میں انتشار اور نا اتفاقی کو بڑھاوا دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ ہمارامذہب تودعاؤں اوررحمتوں کا مذہب ہے جو امن اور آشتی کا پیغام دیتا ہے اور صبر و برداشت کا درس دیتا ہے لیکن چند انتہا پسندوں نے انسانوں سے پیار کرنے والے اس مذہب کا چہرہ مسخ کرنے کی کوشش کی ہے۔

خورشید شاہ نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کو ایوان میں آنا چاہیے تھا اور قوم کو متحد کرنا چاہیے تھا جس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ قرارداد لائیں اور بحث و مباحثہ کیا جائے اور یقین سے کہتا ہوں کہ آج نہیں توکل حکومت قرارداد لائے گی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں