The news is by your side.

Advertisement

انتخابات 90 دن بعد نہیں‌ ہوسکتے، تاخیر کا امکان ہے، خورشید شاہ

اسلام آباد: پیپلزپارٹی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا ہے کہ 31 مئی کو اسمبلیاں تحلیل ہوں گی، 90 دن کے بعد الیکششن نہیں ہوسکتے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، خورشید شاہ نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے ووٹ کی عزت کی توہین کی ہے، گالم گلوچ کی زبان استعمال کرکے بات نہیں بنتی۔

قائد حزب اختلاف نے کہا ہے کہ وفاق کی جانب سے کے فور کے پیسے نہیں دئیے جاتے اور شہباز شریف کراچی کو نیویارک بنانے کی بات کرتے ہیں، غیر آئینی راستوں پر چلنے کے بہت نقصانات ہیں۔

پیپلزپارٹی رہنما نے کہا کہ لاہور میں گندی گلیاں بھی دیکھ کر آیا ہوں، ہر سال ایک لاکھ میں سے 17 مائیں دوران زچگی فوت ہوجاتی ہیں، ملک کی ٹوٹل آبادی میں سے 6 فیصد ہیپاٹائٹس بی اور سی کا شکار ہے۔

خورشید شاہ نے کہا کہ ہر سال ایک لاکھ 48 ہزار کینسر کے مریض سامنے آتے ہیں، صحت کے مسئلے کو لے کر بہت شور ہوتا ہے، ن لیگ نے کہا تھا 2018 تک صحت کا بجٹ 2 فیصد تک لے جائیں گے، آج بھی صحت کا بجٹ 0.9 فیصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ سندھ میں کیا ہورہا ہے، آئیں دیکھیں سندھ میں صحت پر کتنا کام ہوا ہے، کیا ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے بجٹ میں کچھ رکھا گیا ہے، ہمیں سوچ کو تبدیل، فیصلوں پر بلا تفریق نظرثانی کرنا ہوگی۔

خورشید شاہ نے کہا کہ مخالفت برائے مخالفت کے بجائے مسائل کا حل بتانا چاہئے، یو این ڈی پی کہتی ہے پاکستان صاف پانی کے معاملے پر سنجیدہ نہیں، مجھے خوف آرہا ہے پینے کا پانی نہیں ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں