site
stats
پاکستان

حکومت اپوزیشن کوسڑکوں پرنہ دھکیلے، خورشید شاہ

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے پہلے ہی روز حکومت کو کورم کے مسائل کا سامنا رہا، جبکہ اپوزیشن نے تقاریر براہ راست نشر نہ کیے جانے پر بھی احتجاج کیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں بجٹ پر بحث کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ بجٹ کی کوئی سمت نظر نہیں آرہی بجٹ کسان دوست ہے یا مزدور دوست یا پھر کیا صوبے اس بجٹ سے خوش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پہلے ایک دو اور تین سال میں بجلی پوری کرنے کے وعدے کرتی رہی اور اب کہتی ہے کہ 2018ء میں بجلی پوری ہو جائے گی مگر بجلی کا پورا ہونا 2018ء میں بھی ممکن نہیں دکھائی دیتا کیونکہ حکومت کا کوئی بھی منصوبہ بروقت مکمل نہیں ہو گا۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ حکومت اپوزیشن کوسڑکوں پرنہ دھکیلے، پاناما ہو یا قرض معاف کروانے والے سب کا احتساب ہونا چاہیے ہم کرپشن کرنے والے کو بھی دہشت گرد سمجھتے ہیں۔

خورشید شاہ نے اپوزیشن کی تقاریر سر کاری ٹی وی پر نشر نہ کئے جانے پربھی احتجاج کیا اور کہا کہ اس معاملے پر اسپیکر قومی اسمبلی کو بھی گمراہ کیا گیا ۔

خطاب کے دوران خورشید شاہ نے جب یہ تجویز دی کہ 4 سے 5 لاکھ روپے سالانہ ٹیکس دینے والے امیدوار کے کاغذات نامزدگی جمع کئے جائیں، اب تو ویسے ہی ماہانہ تنخواہ 3 سے 4 لاکھ روپے ہونے جا رہی ہے،جس پر اسحاق ڈار نے جواب میں ہاتھ ہلا کر انکارکیا۔

بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر فاروق ستار نے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد پیٹرولیم لیوی کا غنڈہ ٹیکس ختم کیا جائے جبکہ بجلی اور گیس پر سیلز ٹیکسز بھی ختم کیے جائیں، دریں اثنا قومی اسمبلی کا اجلاس کل صبح گیارہ بجے دوبارہ ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top