The news is by your side.

Advertisement

خورشیدشاہ کیس، عدالت کا 7 جنوری تک تمام ثبوت پیش کرنے کا حکم

سکھر: احتساب عدالت میں خورشیدشاہ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت ہوئی، خوشیدشاہ کی بیگمات اور بیٹوں سمیت 18افراد احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس سے متعلق سماعت کرتے ہوئے احتساب عدالت نے نیب کو حکم دیا کہ ریفرنس کے دستاویزات پیش کی جائیں جس پر نیب نے دستاویزات سے متعلق اپنا مؤقف پیش کیا۔

عدالت نے نیب کو 7جنوری 2020 تک تمام ثبوت پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 7جنوری کے لیے مقرر کردی، سماعت ختم ہونے کے بعد خور شید شاہ کو این آئی سی وی ڈی منتقل کردیا گیا۔ انہوں نے عدالت کے باہر غیررسمی گفتگو بھی کی۔

خورشیدشاہ کا کہنا تھا کہ جب پارلیمنٹ کمزور ہو جائے تو دشمن طاقتور ہوجاتا ہے، پارلیمنٹ سے عوام کی نمائندگی نہ ہونا بہت فکر انگیز بات ہے، ایسے حالات میں مفاہمت کی ضرورت ہوتی ہے، سیاستدانوں کو مل کر بیٹھ کر سوچنا چاہیے، اب تک ہماری بات کوئی ملک نہیں سن رہا یہ بہت خطرناک ہے۔

خورشید شاہ کی رہائی کا حکم معطل

خیال رہے کہ گزشتہ روز سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ کے سامنے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں خورشید شاہ کی ضمانت پر رہائی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی تھی، سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ نے خورشید شاہ کی رہائی کا حکم معطل کردیا تھا۔ احتساب عدالت نے 17 دسمبر کو خورشید شاہ کی رہائی کا حکم دیا تھا۔

بعد ازاں نیب نے ان کی رہائی کے حکم کو چیلنج کر دیا تھا، گزشتہ روز نیب کی جانب سے نیب پراسیکیوٹر اور خورشید شاہ کے وکلا عدالت میں پیش ہوئے، پی پی رہنما کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ احتساب عدالت نے خورشید شاہ کی رہائی کا حکم دیا تھا، میرے مؤکل کو نوٹس کی تعمیل نہیں ہوئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں