The news is by your side.

خورشید شاہ بجلی کا بل زیادہ آنے پر ایوان میں بول پڑے

اسلام آباد: وفاقی وزیر سید خورشید شاہ اپنے گھر کا بجلی کا بل زیادہ آنے پر قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اس متعلق بول پڑے۔

اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی زیرِ صدارت اجلاس میں خورشید شاہ نے کہا کہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ 10 روپے سے 22 پیسے پر آگئی ہے، میرے گھر کا بل 33 ہزار اور فیول ایڈجسٹمنٹ 2 لاکھ روپے ہے۔

اس پر وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے خورشید شاہ کے بل پر تحقیقات کرانے کا کہہ دیا۔ اس دوران راجہ پرویز اشرف نے ہدایت کی کہ پورے ملک کے زائد بلوں کی تحقیقات کریں۔ اسپیکر نے بجلی کی قیمتوں کا معاملہ متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا۔

بجلی کے زائد بلوں پر جماعتِ اسلامی کا توجہ دلاؤ نوٹس

دوسری جانب اگست کے مہینے میں بجلی کے زائد بلوں پر جماعت اسلامی پاکستان کے رکن قومی اسمبلی عبدالاکبر چترالی نے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کر دیا جس پر وزیر توانائی خرم دستگیر نے جواب دیا۔

خرم دستگیر نے کہا: ’اگست میں بجلی کے بل زیادہ تھے۔ جولائی میں جو یونٹ استعمال ہوئے ان کا بل اگست میں آیا۔ فیول ایڈجسٹمنٹ جون کے استعمال یونٹ پر ہوئی تھی۔ پاکستان کے عوام کو پریشانی ہوئی۔ 100 یونٹ یا اس سے کم پر فیول ایڈجسٹمنٹ نہیں لگایا گیا تھا‘۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ کسانوں نے بھی زیادہ بلوں پر احتجاج کیا، 300 یونٹ استعمال کرنے والوں کو وزیر اعظم شہباز شریف نے رعایت دی، 300 یونٹ تک کے صارفین اور کسانوں کو بھی رعایت دی گئی، اس سے 3500 ارب کا بوجھ حکومت نے برداشت کیا، اس ماہ وہ فیول ایڈجسٹمنٹ جو 9 روپے 89 پیسے تھی اب 22 پیسے رہ گئی۔

خرم دستگیر نے بتایا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر اگست میں 37 ارب اور ستمبر میں 15 ارب کا ریلیف دیا گیا، 2 ماہ میں 66 ارب روپے ریلیف دے رہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں