The news is by your side.

Advertisement

قومی بیانیہ خوش آئند ہے، دہشت گردوں نے مذہبی لبادہ اوڑھ رکھا تھا، خواجہ آصف

اسلام آباد : وفاقی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ دہشت گردوں نے مذہبی لبادہ اوڑھ رکھا ہے جسے بے نقاب کرنے کے لیے جید علمائے اکرام کے متفقہ بیانیے کا آنا خوش آئند بات ہے.

ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف پوری قوم یکجا ہے اور اپنی فوج کے ساتھ ہر محاذ پر شانہ بشانہ کھڑی ہے.

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف قومی بیانیے پیغام پاکستان نے تمام شکوک و شبہات کو دور کردیا ہے جس میں جید علمائے اکرام کے فتوے شامل ہیں جنہوں نے خود کش حملوں اور ریاست پر حملوں کو فساد فی الارض قرار دیا ہے.

اسرائیلی وزیراعظم کی بھارت آمد اور مودی سے ملاقات کے حوالے سے وفاقی وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت اور اسرائیل کے مقاصد ایک ہی ہیں، اسرائیل یروشلم پر تو بھارت کشمیر میں قبضہ کر کے بیٹھا ہوا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے کبھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور بھارت و اسرائیل کے ممکنہ گٹھ جوڑ سے پاکستان کو کوئی مسئلہ نہیں اور نہ ہی پاکستان حکومت کسی گھبراہٹ سے دو چار نہیں.

وفاقی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہماری افواج دہشت گردی کے خلاف بھرپورانداز میں لڑرہی ہیں اور دہشت گردی کے خلاف کامیابی بہت قربانیوں کے بعد حاصل کی ہے.

خواجہ آصف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افواج پاکستان نے سخت محنت کی ہے اور بے پناہ قربانیاں دی ہیں جس کے بعد ہماری دفاعی استعداد میں اضافہ ہوا ہے.

قبل ازیں قومی بیانیہ کے پیش ہونے کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ اپنے پیغام میں کہا ہے کہ قو می بیا نیہ قرآن کی اس آیت کی غماز ہے کہ  جس میں نبی آخری الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام عالموں کے لیے رحمت قرار دیا گیا یعنی قران کی رو سے حضور ﷺ کی رحمت میں مسلمان، غیر مسلم  و کائنات کی ہر چیز شامل ہے۔

انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر تحریر کرتے ہوئے مزید لکھا کہ امن پسند مذہب اسلام کی زریں تعلیمات پرعمل کرنے کی صورت میں دوسروں پر اپنے نظریات مسلط کرنے اور دوسروں کی جانوں اور  املاک کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں