The news is by your side.

Advertisement

سلطان الہند خواجہ معین الدین چشتی ؒکون ہیں

یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ اسلام کی ترویج و اشاعت کے لئے صوفیائے کرام نے جس خلوص و محبت سے کام کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی اس کا نتیجہ ہے کہ اسلام مختصر مدت میں عالم پر چادر نور بن کر چھا گیا اور ہر ذی شعور نے اس سے اکتسابِ فیض کیا۔

حضرت داتا علی ہجویری کشف المحبوب میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کی نشانیوں کو آج تک باقی رکھا ہے اور اپنے اولیاء کو اس کے اظہار کا ذریعہ بنایا ہے تاکہ توحید الہٰی اور نبوت کے براہن ہمیشہ ظاہر رہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء کرام کو کائنات کا والی بنایا ہے اور وہ دنیا میں ذکر الہٰی اور اس کی دلیل بن گئے ہیں ، انہوں نے نفس کی پیروی چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی بندگی اختیار کرلی ہے ، عقیدت کی وسعت سمندر سے زیادہ ہوتی ہے گہری ہوتی ہے اور جب بات تصوف کی ہو تو عقیدت کی معراج رضا الہٰی سے آسمان کی وسعتوں کو چھونے لگ جاتی ہے ایسے عقیدت مندوں کے اس ولی کا ذکر اس عظیم شعر سے کرنا چاہوں گا

شاہ است حسین بادشاہ است حسین
دین است حسین دین پناہ است حسین
سرداد نداد دست در د دست یزید
حقا کہ بنائے لا اللہ است حسین

خالق کائنات رب العالمین نے انسانیت کے محسن اعظم ، ہادی رحمت مجسم رسول اللہ ﷺ کی امت میں ہر دور میں ایسے افراد مبعوث فرمائے ، جنہیں اللہ نے اپنے خصوصی انعام و اکرام سے نوازا اور ان سے امت کی ظاہری و باطنی اصلاح کا بندوبست فرمایا۔

انہی بر گزیدہ ہستیوں میں سے حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ کا نام بھی آتا ہے ۔ آپ کے والد کا اسم گرامی غیاث الدین حسنؒ اور والدہ ماجدہ کا نام سیدہ ام الورع ؒبی بی تھا ، حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ کی شادی 590ہجری 1194ء کو بی بی امت ؒکے ساتھ ہوئی ، آپ کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی آپ کے پیرو مرشد حضرت خواجہ شیخ عثمان ہارونی ؒ سے آپ کو بہت محبت اور عقیدت تھی ، اس کی محبت اور عیقدت کو دیکھ کر خواجہ عثمان ہارونی ؒ نے آپ کو (امیر تبرک) کے شرف سے نوازا ، اور آپ کو اپنا سجادہ نشین مقرر فرمایا ۔

خواجہ غریب نواز معین ا لدین چشتی اجمیری ؒ نے اپنے گفتار اور اپنے کردار سے ایک معیاری زندگی کا نمونہ پیش کیا ، وہ عشق الہٰی میں ایسے سرمست و سرشار تھے ، ان کو اپنی ہستی کا پتہ نہیں تھا ، پاک و ہند کے اولیاء اکرام ، صوفیائے ، عظام میں سلطان الہند خواجہ معین الدین چشتی ؒ کو سب سے منفرد اور بلند مقام حاصل ہے ، آپ کو نائب الرسول فی الہند ۖ کے عظیم لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے ، آپ کی مکمل زندگی نکات طریقت کا نمونہ تھی ، حقیقت و معرفت کا آئینہ تھی ، معرفت الہیہ کا سرچشمہ تھی ، آپ نے اپنی روحانی طاقت سے اپنا ایثار خلوص اور رواداری سے ایک نئے سماج کی تشکیل کی۔

اجمیر راجھستان کی راجھستانی سے 130کلومیٹر کا فاصلے پر نیشنل ہائی الرٹ اور آراولی پہاڑی کے خوبصورت دامن پر واقع ہے ، بغداد سے واپسی پر خواجہ غریب نواز 1156ءعیسوی میں حرم شریف پہنچے خواجہ عثمان ہارونی ؒ نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر دعا کی اللہ تعالیٰ کی منظوری آئی کہ ّہم نے معین الدین کو قبول کیا ۔

خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی ؒ سے مریدوں کے بارے میں کچھ نام تاریخ میں آتے ہیں ، سب سے پہلے مرید اور سجادہ نشین حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کا نام آتا ہے ، باقی مریدوں کے نام یہ ہیں ۔ خواجہ فخر الدین ؒ ، خواجہ محمد یادگار چشتی ؒ خواجہ علاؤ الدین نیلی چشتی ؒ ، حضرت خواجہ نصیر الدین چشتی ؒ
، خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی ؒ سے منسوب تصانیف انیس الارواح ، حدیث المعارف ، کشف الاسرار ، تہنج الاسرار ، رسالہ آداب ، سیر العارفین ، مسالک الساکین ، مرقعہ خواجگان اور مراة الاسرار شامل ہیں ، سلسلہ چشتیہ کے عیقدت مندوں کی زباں پر ایک شعر ضرور ہوتا ہے ۔

الٰہی تابود خورشید و ماہی
چراغ چشتیہ را و رروشنائی

ترجمہ؛ اے اللہ تعالیٰ جب تک چاند اور سورج کی روشنی باقی ہے ، سلسلہ چشتیہ کے چراغ کو روشن رکھ (آمین)۔

بر صغیر پاک و ہند میں حضرت خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی حسن سنجری اجمیری ؒ کو سلسلۂ چشتیہ بانی کی حیثیت سے صدیوں سے جانا اور مانا جاتا ہے آپ کا وصال 6رجب 632ھ بروز پیر نمازِ عشاء کے بعد ہوا ہر سال آپ کا عرس یکم رجب سے شروع ہوکر 6رجب تک جاری رہتا ہے اور نہایت عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے ۔خواجہ صاحب نےمحض عمل ہی سےلوگوں کی اصلاح نہیں کی بلکہ انہوں نےاپنےاقوال کےذریعہ بھی ان کی اصلاحی تربیت فرمائی۔

آپ نےفرمایاکہ موت ایک ایسی پاکیزہ چیزہے جو دوستوں سےملادیتی ہے،محبت کااظہارمحض زبان سےنہ ہوناچاہیئےاس کااثردل میں بھی ہوناضروری ہے،ماں باپ کی خدمت سےبڑےرُتبےملتےہیں۔ خواجہ معین الدین چشتی ؒ کی ذات سراپاخیروبرکت ہےکسی امیربادشاہ کےآگےدست سوال نہیں پھیلایا اورانکی پوری حیات زندگی فقیردوست وغریب نواز ہی رہی۔اللہ تبارک تعالیٰ ہمیں ایمان کامل کی زندگی عطا اور اپنے پیر و مرشدکی طرزفکرمکمل یقین کےساتھ اپنانےکی توفیق عطافرمائے(آمین)۔


سید محبوب احمد چشتی

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں