The news is by your side.

Advertisement

جے آئی ٹی فیکٹ فائندںگ کمیٹی ہے انٹروگیشن کمیٹی نہ بنے، خواجہ سعد رفیق

لاہور : وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ہم عدالت اورعدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہیں لیکن جے آئی ٹی کے اراکین بھی سوچیں کہ وہ حقائق کی تلاش میں ہیں یا محض مچھلیاں پکڑنے آئے ہیں۔

وہ لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے ایک اجتماع سے خطاب کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ ہم جے آئی ٹی پر تحفظات رکھتے ہیں اورعدالتی فیصلوں کا عاجزی سے احترام کرنے کو تیاربھی ہیں تاہم ہماری بھی بات سنی جانی چاہیے۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ہم کسی قسم کی بے ادبی نہیں چاہتے اور نہ ہی جے آئی ٹی کے احترام میں کوئی کمی لانا چاہتے ہیں لیکن ہمارے تحفظات کو دور کرنا تو درکنار ہماری گذارشات بھی نہیں سنی گئیں اس لیے شکوہ ذبان پر ہی آجاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بحالی عدلیہ کے لیے جنگ ہم نے لڑی تھی اور جج حضرات نے بھی قربانیاں دیں لیکن دست بدستہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کیا ذوالفقار بھٹو کو پھانسی دیکر انصاف کیا گیا تھا؟ احتساب کا نعرہ لگا کر حکومتیں توڑنا مناسب عمل ہے؟ طیارہ سازش کیس کے کمزور مقدمے میں میاں صاحب کو عمر قید کی سزا دی گئی۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پاپولرلیڈرکے لیے سسیلین مافیا جیسے الفاظ استعمال کرنا کیا درست طریقہ کار ہے؟ اور اسی طرح اگرحکومت کو گاڈ فادر کہہ کر پکارا جائے گا تو ہمیں تردید کا حق حاصل ہے پھراس پہ بھی کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیئے اور گاڈ فادرجیسے الفاظ بتاتے ہیں کہ آپ ہمارے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟

انہوں نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم گرے بھی تو خان صاحب آپ کی باری نہیں آنے والی ہے اور کہیں ایسا نہ ہو کہ کل آپ کو ہمارے ساتھ ٹرک پر چڑھنا چڑھ جائے اس لیے عمران خان اتنا آگے جاؤگے تو کچھ ہاتھ نہیں آئے گا اور اگر کوئی حادثہ ہوا تو آپ بھی بری الزامہ نہیں ہو سکتے ہیں۔

وفاقی وزیر ریلوے کا اپنی جوشیلی تقریر میں مزید کہنا تھا کہ اگر انصاف ہوتا محسوس نہ ہو تو کارکن اپنے جذبات سامنے لاتے ہیں، جذبات کا اظہار کرنا ہمارا حق ہے، نواز لیگ کا قصور کیا ہے؟ کیا جرم کیا ہے؟ وہ ووٹ کی طاقت سے اقتدار میں آئے لیکن ابھی جدوجہد ختم نہیں ہوئی تاہم عدلیہ غیرجانبدار اور آزاد نہیں ہو گی تو ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔

انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ عمران خان اور آصف علی زرداری غیر جمہوری راستوں پر سفر کرنے کی بجائے عوام کے منڈیٹ کے سہارے آئیں کیوں کہ بیساکھیوں کے سہارے منزلیں طے نہیں ہوتیں جس کے لیے دونوں رہنما پہلے اپنے اپنے صوبوں میں لوگوں کی خدمت تو کریں۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ مخالفین اس بات سے انکار نہیں کریں گے کہ ہم نے آمریت کے خلاف بے خوفی سے جنگ لڑی اور کسی آمر سے ہاتھ نہیں ملایا، میرے والد خواجہ محمد رفیق جاگیرداروں اور وڈیروں کے خلاف بغاوت کرنے والوں میں شامل تھے اور میں خود بھی ضیاءالحق کے دور میں جیل جاتا رہا، ہم نے جیلیں کاٹیں مگر آمریت کے سامنے نہیں جھکے۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ آج ایمپائر پاکستان کے آئین اور جمہوریت کا محافظ ہے، پاکستان کو ساٹھ کی دہائی میں واپس دھکیلنے کی چار سال سے جاری سازش نا کام ہو گئی ہے اس لیے کہتا ہوں کہ پاکستان جمہوریت اور سیاست کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا اور سیاسی جماعتوں کا سب سے بڑا فلٹر اور احتساب گلی کا ووٹ ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں