The news is by your side.

Advertisement

خیبرپختونخوا: کرونا نے معیشت پر کیا اثرات مرتب کیے؟

پشاور: کروناوائرس سے خیبرپختونخوا کی معیشت پر پڑنے والے اثرات کی تفصیلات سامنے آگئیں، ملازمت کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ورکرز اور مزدوروں کو شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کے پی کے معیشت کے حوالے سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں زراعت کے 32.6فیصد مزدور زیادہ متاثر نہیں ہوئے، جبکہ صنعتی شعبے میں 12.3فیصد لیبر کو لاک ڈاؤن سے سست روی کا سامناکرنا پڑا، 13.7فیصد تعمیراتی شعبے کے مزدور سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بین الاضلاعی سطح پر نقصان ہوا، 1.6فیصد سب سے زیادہ متاثر شعبہ سیاحت ہوا، محصولات میں کمی سے اخراجاتی منصوبہ جات بھی متاثر ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کی نسبت 2020۔21 میں30 فیصد محصولات میں کمی ہوئی، وفاقی حکومت احساس ایمرجنسی کیش سمیت1.2ٹریلین کا پیکج لائی، پیکج کا مقصد کمزور گروپوں اور شعبوں کوریلیف فراہم کرنا ہے۔

خیبرپختونخوا: کرونا صورت حال کی وجہ سے محصولات کی مد میں کمی

خیبرپختونخوا حکومت نے صحت، انفرااسٹرکچر اور آلات کی فراہمی کے لیے اضافی رقم مختص کی۔

یاد رہے کہ 12 جون کو سرکاری حکام کا کہنا تھا کہ کرونا اور لاک ڈاؤن کے باعث محصولات کا حصول متاثر ہے، محصولات کی وصولی کے ادارے مقررہ اہداف حاصل نہ کرسکے، رواں بجٹ میں نان ٹیکسز اور ٹیکسز مد میں50ارب وصولی کا تخمینہ لگایا گیا تھا، جبکہ حکومت کو 33ارب روپے وصول ہوئے۔

ذرائع نے بتایا کہ خیبرپختونخوا ریونیواتھارٹی سے 20ارب روپے آمدن متوقع تھی، محکمے نے 15 ارب روپے کے ٹیکسز وصول کیے، بورڈ آف ریونیو اور محکمہ ایکسائز سے 10 ارب روپے آمدن متوقع تھی، جبکہ ایکسائز 3.6ارب روپے میں سے 2.3ارب روپے ٹیکس وصول کرسکا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں