The news is by your side.

Advertisement

خیبر ٹیچنگ اسپتال پشاور کے مسیحاؤں نے خدمت کی اعلیٰ مثال قائم کردی

پشاور : خیبر ٹیچنگ اسپتال پشاور میں گزشتہ روز درجنوں مریضوں کی بروقت جان بچانے والے ڈاکٹر ساجد خان، ڈاکٹرشازیہ شمس، ڈاکٹر ذیشان اور میل نرس وقار خان نے خدمت کی اعلیٰ مثال قائم کردی۔

خیبر ٹیچنگ اسپتال پشاور میں پانچ اور چھ دسمبر کی درمیانی شب اچانک آکسیجن کی فراہمی معطل ہوگئی جس کے سبب کورونا آئسولیشن وارڈ میں موجود مریضوں کی حالت تشویشناک ہوگئی اور وارڈ میں ہلچل مچ گئی۔

اس وقت آئیسولیشن وارڈ میں90سے زائد مریض زیر علاج تھے، مریض کے ساتھ موجود لوگ اپنے پیاروں کی جان بچانے کیلئے دیوانگی کے عالم میں مدد کیلئے چیخ و پکار کررہے تھے۔

اطلاع ملتے ہی خیبر ٹیچنگ اسپتال پشاور کے ان مسیحاؤں نے ایمبوبیگ سے مریضوں کو ہنگامی طور پر آکسیجن کی فراہمی شروع کردی جس سے مزید افراد موت کے منہ میں جانے سے بچ گئے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان مسیحاؤں نے لوگوں کی جان بچانے کیلئے اپنی جانوں کی بھی پرواہ نہیں کی۔

اس حوالے سے ڈاکٹر ذیشان اور میل نرس وقار خان نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبرسویرا میں خصوصی گفتگو کی۔ ریزیڈنس سرجن ڈاکٹر ذیشان نے بتایا کہ ایسے وقت میں ینگ ڈاکٹرز، نرسنگ اور پیرا میڈیکل اسٹاف اور سیکیورٹی گارڈ حتیٰ کہ صفائی پر مامور عملے نے بھی اکسیجن کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کیا۔

ڈاکٹر ذیشان نے انکشاف کیا کہ اگر مریضوں کو بروقت طبی امداد فراہم نہ کی جاتی تو 50سے زائد اموات کا خدشہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ ہمارے سینئر ڈاکٹر ساجد بھی موجود تھے، ہم سب نے اپنی مدد آپ کے تحت بغیر کسی حفاظتی لباس کے کورونا کے مریضوں کو سنبھالا اور انہیں دوسرے وارڈ میں شفٹ کیا۔

اس موقع پر میل نرس وقار خان نے کہا کہ جب میں نے مریضوں کے لواحقین کی چیخ و پکار سنی تو ازخود میں نے ایک مشکل فیصلہ کیا اور ان مریضوں کو اپنی ذمہ داری پر ایمرجنسی وارڈ میں شفٹ کیا اور پھر نائٹ شفٹ انچارج کو آگاہ کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں