site
stats
پاکستان

ڈاکٹر عافیہ کیس میں اغوا کا مقدمہ درج ہونا چاہیے، سراج الحق

اسلام آباد: جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کیس میں اغوا کا مقدمہ درج ہونا چاہیے ، نوازشریف نے وعدہ کیا تھا کہ وہ 100 دن کے اندر عافیہ کو وطن واپس لائیں گے مگر انہوں نے رہائی کے لیے کچھ نہیں کیا۔

اسلام آباد میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کیس کے مقدمے میں سابق صدر مشرف کو نامزد کرنا چاہیے، جب یوسف رضا گیلانی وزیراعظم تھے تو نوازشریف نے انہیں خط لکھا جس میں کہا تھا کہ آپ نے عافیہ کے لیے کچھ نہیں کیا آپ کو شرم آنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے 100 دن کے اندر عافیہ کو وطن واپس لانے کا وعدہ کیا تھا مگر وہ وزیراعظم بننے کے بعد کئی بار امریکا گئے تاہم انہوں نے عافیہ کی رہائی کے لیے کچھ نہیں کیا۔

سراج الحق نے کہا کہ اوباما کی رخصتی کےوقت اگر حکومت عافیہ کی رہائی کے لیے اپیل کرتی تو وہ وطن واپس آسکتی تھی مگر ہمارے حکمرانوں نے ایسا کچھ نہیں کیا کیونکہ حکومت عافیہ کیس میں مدعی بننے کو تیار نہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر نے ساتھ ہی قومی سے اپیل کی کہ عافیہ کی رہائی کے لیے جدوجہد کریں۔

پڑھیں: ’’ نوازشریف نے عافیہ کو وطن واپس لانے کا وعدہ کیا تھا ‘‘

بعد ازاں ڈاکٹر عافیہ کی رہائی سے متعلق ہونے والی کانفرنس میں مختلف قراردادیں منظور کی گئیں جس میں شرکاء نے مطالبہ کیا کہ پاکستان امریکا کے یک طرفہ مطالبات ماننے کا سلسلہ بند کرتے ہوئے عافیہ کی رہائی کے لیے فوری طور پر اقدامات کرے۔

قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی تک امریکا کے کسی مطالبے کو تسلیم نہ کیا جائے، عافیہ کی بے گناہی کو عالمی سطح پر قانونی ماہرین تسلیم کرچکے ہیں مگر حکومت نے کچھ نہیں کیا۔

کانفرنس کے مشرکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ امریکی جاسوس ریمنڈڈیوس کے بدلے ڈاکٹر عافیہ کو وطن واپس لایا جاسکتا تھا، امریکی میڈیا میں یہ بات زیر گردش ہے کہ شکیل آفریدی کے بدلے امریکا ڈاکٹر عافیہ کو رہا کردے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top