The news is by your side.

Advertisement

بھارت : تاوان کی رقم لے کر بھی ڈاکوؤں نے مغوی لڑکے کو نہیں چھوڑا

کانپور : بھارت میں ملزمان نے تاوان لینے کے باوجود مغوی لڑکے کو رہا نہیں کیا، پولیس کی موجودگی میں ملزمان لاکھوں روپے لے کر باآسانی فرار ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع کانپور میں اغوا برائے تاوان کی واردات ہوئی، اغوا کاروں نے مغوی نوجوان سنجیت یادوں کے اہل خانہ سے تاوان کی رقم 30 لاکھ روپے لے کر فرار ہوگئے۔

مغوی کی بہن رو چی یادوں شکایت لے کر کانپور ایس ایس پی آفس پہنچی اور اپنی روداد سنائی، اس نے بتایا کہ اس کے بھائی کو کچھ لوگوں نے اغوا کرلیا تھا، ملزمان نے ہمارے گھر رابطہ کرکے بھائی کو چھوڑنے کے بدلے میں تیس لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔، میرے گھر والوں نے تاوان کی رقم بھی دے دی مگر ملزمان نے بھائی کو نہیں چھوڑا۔

حیرانی کی بات یہ ہے کہ رقم کی ادائیگی کے وقت پولیس جال بچھارہی تھی، مگر چالاک ملزمان پولیس کی موجودگی کے باوجود رقم لے کر فرار ہوگئے اور سنجیت یادوں کو بھی نہیں چھوڑا۔ اب اس کے گھر والوں کا رو رو کر برا حال ہے۔

مذکورہ واقعہ گزشتہ ماہ کی 22تاریخ کو پیش آیا، سنجیت یادو بررا کا رہنے والا ہے جو قریب میں ہی ایک پیتھالوجی لیبارٹری میں کام کرتا تھا رات کو گھر آتے وقت راستے سے غائب ہوگیا تھا اس کے بعد ملزمان نے گھر والوں کو فون کرکے 30 لاکھ روپے تاوان مانگا۔

گھر والوں نے معاملے کی شکایت پولیس سے کی لیکن پولیس نے سنجیت یادوں کی گمشدگی لکھ کر گھر والوں کو سمجھایا کہ تم پیسے کا انتظام کرو ہم پیسہ دیتے وقت ملزمان کو پکڑ لیں گے۔

گھر والوں نے مکان اور بہن کی شادی کے لیے رکھے زیور بیچ کر پیر کی رات تیس لاکھ روپے پولیس کے حوالے کردیا، پولیس نے اپنی ٹیم اور سادی وردی میں اپنا پورا جال بچھایا، لیکن ملزمان نے پیسہ لینے کے لیے پنکی میں واقع ریلوے پل پر ان کے گھر والوں کو بلایا۔

اس دوران ملزمان نے موبائل سے مسلسل ان لوگوں سے بات کرتے رہے اور روپے لے کر فرار ہوگئے، گھر والوں نے اس سلسلے میں ملزمان کا آڈیو بھی پولیس کے حوالے کیا ہے۔

ریکارڈنگ کے مطابق ملزمان سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے اور ان کو ہدایت دیتے جارہے تھے، وہ اور یہ بھی دیکھ رہے تھے کہ کہ کس گاڑی میںکتنے لوگ روپے لے کر آرہے ہیں۔

اس کو گاڑی چھوڑ کر کتنا آگے بڑھنا ہے کس جگہ سے پل کے نیچے روپے پھینکنا ہے، اتنا سب کچھ ہوجانے کے بعد بھی پولیس کی ٹیم نا تو ملزمان کو پہچان سکی ہے اور نہ ہی پولیس کی ٹیم موبائل نیٹ ورک کے ذریعے ملزمان کے قبضے سے مغوی کو چھڑا پائی ہے۔

گھر والوں کے مطابق انہوں نے لڑکے کی رہائی کے لیے روپے سے بھرا بیگ نیچے پھینک دیا اس کے بعد ان سے کہا گیا کہ آگے مندر پہ سنجیت کھڑا ہے جاکر اسے لے لو لیکن جب وہاں پر پہنچا تو سنجیت نہیں ملا۔ واپس آنے پر پل کے نیچے بیگ بھی نہیں تھ۔

مغویہ لڑکے کی بہن روچی یادوں کا کہنا ہے کہ اس نے ایس پی ساؤتھ اپرنہ یادو سے کہا بھی تھا کہ بیگ میں چپ لگا دیجیے تاکہ کچھ سراغ مل سکے لیکن اس پر اسے سمجھا کر بھیج دیا گیا تھا،ہمیں انصاف فراہم کیا جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں