The news is by your side.

Advertisement

امراض کی تشخیص کرنے والی حیرت انگیز چاکلیٹ

سیئول : جنوبی کوریا کے ماہرین صحت نے گردے میں پتھری کے ٹیسٹ کا ایک نیا طریقہ وضع کیا ہے جس کے تحت چاکلیٹ کے ذریعے گردے کے امراض کی کافی حد تک درستگی سے تشخیص کی جاسکتی ہے۔

عام طور پر مختلف امراض اور جسمانی کیفیات کی تشخیص کرنے والے ٹیسٹ اگرچہ سستے ہوتے ہیں لیکن ان سے فالتو کچرا پیدا ہوتا ہے۔

اس ضمن میں ایک چوکور چاکلیٹی لالی پاپ (ٹوٹسی رول) بنایا گیا ہے جو کسی چاکلیٹ کی بجائے برقی سرکٹ سے بنا ہے۔ اسے چوسنے سے تھوک کے اجزا جمع ہوجاتے ہیں جو مختلف جسمانی کیفیات سے آگاہ کرتے ہیں۔

اے سی ایس اپلائیڈ مٹیریئلز اینڈ انٹرفیسِس میں شائع رپورٹ کے مطابق یہ ایک کم خرچ نسخہ ہے جسے بار بار استعمال کیا جاسکتا ہے اور یوں ایک بار استعمال ہونے والے شناختی سینسر کا کوڑا کم کیا جاسکتا ہے۔ گھر بیٹھے استعمال ہونے والا یہ سینسر کئی طرح کے امراض کی تشخیص کرسکتا ہے۔

لالی پاپ نما یہ سینسر منہ میں جاتے ہیں تھوک میں موجود کیمیکل کو بھانپ لیتا ہے اور ہارمون کی سطح کو نوٹ کرتے ہوئے خواتین میں بیضے کے اخراج یا پھر گردوں کی بیماری کی پیشگوئی کرسکتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ان دونوں کیفیات میں لعاب میں بعض کیمیائی اجزا معمول سے بڑھ جاتے ہیں نہیں ٹوٹسی کینڈی شناخت کرسکتی ہے۔

امریکن کیمیکل سوسائٹی اور کوریا کی وزارتِ سائنس نے اس منصوبے کی فنڈنگ کی ہے۔ پروفیسر بیلی چوا اور ڈونگ ہیون لی نے مشترکہ طور پر اسے تیار کیا ہے جو کوریا یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔

اسی ٹیم نے 2019 میں بچوں کے لیے لالی پاپ نما جیلی کے اندر سینسر رکھا تھا تاکہ بچوں میں کھانے اور چبانے کی عادت معلوم کی جاسکے۔

سب سے پہلے رول کو ہموار کیا گیا اور ان میں گڑھے بنائے گئے جن میں لعاب جمع ہوکر ٹھہرجاتا ہے۔ اب اس میں المونیئم کی دو باریک نلکیاں داخل کرتے ہیں جس کے بعد اس کا ایک سرکٹ سے رابطہ ہوجاتا ہے اور اسی سے بجلی بھی اندر پہنچتی ہے۔ ابتدائی درجے میں اس نے منہ میں نمکیات اور دیگر اقسام کے کیمیکل محسوس کئے۔ تجربہ گاہ میں بھی اسے کئی طرح سے آزمایا گیا ہے۔

گردے اگر خراب ہوں تو تھوک میں خاص نمک کی مقدار، معمول سے تین گنا بھی بڑھ جاتی ہے اور اسے بھی آلے نے شناخت کرلیا۔ اس طرح امید ہے کہ بہت جلد برقی لالی پاپ نما طبی سینسر عام ہوجائیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں