اسلام آباد (03 جون 2026): سپریم کورٹ میں دھوکا دہی کے ذریعے انسانی جسم سے اعضا نکالنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے غیر قانونی اعضا کی پیوندکاری کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ٹیکسلا کے ڈاکٹر فواد ممتاز خان کی 7 سال قید کی سزا کے خلاف دائر بریت کی درخواست پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جب کہ پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹیشن کے حکام بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ غیر قانونی طور پر انسانی اعضا نکالنے اور ٹرانسپلانٹ کرنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کوئٹہ میں اگر کسی کو گردے کی ضرورت ہو تو پنجاب سے بہ آسانی مل جاتا ہے، جب کہ پنجاب میں متعلقہ اتھارٹی کا کنٹرول نہ ہونے کے برابر ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے مزید کہا کہ پنجاب میں 18 سے 20 لاکھ روپے میں آسانی سے گردہ دستیاب ہو جاتا ہے اور لوگوں کی غربت کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ اس موقع پر سرکاری وکیل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ ڈونر کو صرف 2 سے 4 لاکھ روپے ملتے ہیں جب کہ باقی رقم ایجنٹ حاصل کرتے ہیں۔
عدالت نے اس معاملے میں سماجی رویوں پر بھی تبصرہ کیا۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ کوئٹہ میں لوگ اپنا گردہ اتنا عزیز سمجھتے ہیں کہ اربوں روپے بھی دیے جائیں تو نہیں دیتے۔ جب کہ جسٹس صلاح الدین پنہورنے استفسار کیا کہ یہ پنجاب والے اپنا دل اور گردہ ہاتھ میں لے کر کیوں گھومتے ہیں؟
’’دوا اصلی ہے یا جعلی؟ عام شہری کیلیے ہوگی اب پہچان آسان‘‘ حکومت کا انقلابی فیصلہ
سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ الزام ہے ڈاکٹر نے ایک شہری کو بغیر رضامندی بے ہوش کر کے اس کا گردہ نکال لیا۔ اس پر ڈاکٹر فواد ممتاز خان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس معاملے میں حقیقت کم اور الزامات زیادہ ہیں۔
سرکاری وکیل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ ملزم ڈاکٹر کے خلاف اسی نوعیت کے مزید 10 مقدمات بھی درج ہیں۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ یہ انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے اور انسانی اعضا نکالنے کے واقعات میں اضافہ ہو چکا ہے۔
جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا کہ ایسے معاملات میں صرف ڈاکٹر ہی نہیں بلکہ اسپتال اور متعلقہ سرکاری ادارے بھی ملوث ہوتے ہیں۔ عدالت نے فریقین کو ہدایت کی کہ مکمل ریکارڈ عدالت میں پیش کیا جائے اور بھرپور تیاری کے ساتھ آئندہ سماعت پر حاضر ہوں کیوں کہ یہ ایک پیچیدہ اور اہم معاملہ ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اگلی سماعت پر عدالت اس مقدمے کو تفصیل سے سن کر فیصلہ کرے گی۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 11 جون تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ٹیکسلا میں جلد کے ڈاکٹر نے نوکری کا جھانسہ دے کر شہری کو بے ہوش کر کے گردہ نکال لیا تھا، ٹرائل کورٹ نے ڈاکٹر فواد کو 7 سال کی سزا سنائی تھی، ہائیکورٹ نے فیصلے کو برقرار رکھا، جس پر ملزم ڈاکٹر نے سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں بریت کی درخواست دائر کی۔


