The news is by your side.

Advertisement

اٹھارہ لاکھ کے عوض گردہ ٹرانسپلانٹ کیا جاتا تھا، گرفتار ملازمہ

لاہور: گردہ اسکینڈل کیس کے تفتیشی افسر افسر جمال خان نے کہا ہے کہ گردہ ٹرانسپلانٹ کےمریض سے18لاکھ روپے لیے جاتے تھے جس میں سے 15 لاکھ  روپے ڈاکٹرفواد خود رکھتا تھا جب کہ ڈھائی لاکھ روپے ڈونراور پچاس ہزارروپے ملزمہ صفیہ کو دیئے جاتے تھے۔

تفصیلات کے مطابق گردہ اسکینڈل کیس میں نئی پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب شریف میڈیکل کمپلیکس میں غیر قانونی گردہ ٹرانسپلانٹ میں ملوث ملازمہ کو حراست میں لیا گیا جس نے اسپتال میں ہونے والے تمام آپریشن سے متعلق پولیس کو بتایا دیا ہے۔

اس حوالے سے تفتیشی افسر جمال خان نے میڈیا کو بتایا کہ گرفتار ملازمہ صفیہ نے دورانِ تفتیش انکشاف کیا ہے کہ ڈاکٹر فواد سے تین سال کے اندر 10 سے زائد گردے ٹرانسپلانٹ کرائے جب کہ ایجنٹ بشیر کے ذریعے گردے کے ڈونر ملا کرتے تھے۔

ملزمہ صفیہ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ گردہ ٹرانسپلانٹ کےدوران 2 افرادانتقال بھی کرگئےتھے جب کہ 2014 میں سلامت نامی شہری کا پہلا گردہ ٹرانسپلانٹ کیا گیا تھا۔


لاہور : گردوں کی غیرقانونی پیوند کاری کرنے والا گروہ گرفتار*


تفتیشی افسر جمال خان نے بتایا کہ صفیہ بی بی ڈاکٹرفوادکی براہ راست ایجنٹ تھی جسے آرائیاں پنڈ میں کارروائی کرکےگرفتارکیا جو شریف میڈیکل کمپلیکس کی ملازمہ تھا اور ایجنٹ بشیربھٹہ مزدوروں کوورغلا کرصفیہ بی بی کے پاس لاتا تھا۔

تفتیشی افسر نے انکشاف کیا کہ گجرات، لاہور، راولپنڈی، پشاورمیں پیوند کاری کا کام جاری ہے جس کے لیے 4 سے 5 علیحدہ گروہ کام  کر رہے ہیں مزیدشواہدسامنےآنےپرتفتیش کادائرہ وسیع کردیاجائےگا جن افرادکےگردےنکالےگئےوہ ہم سےرابطہ کریں۔

تفتیشی افسر جمال خان کا کہنا تھا کہ گردے ٹرانسپلاںٹ کرنے کے کاروبار کا سرغنہ ڈاکٹرفواد 2لاکھ روپے فی ٹرانسپلانٹ وائی ڈی اے کے جنرل سیکرٹری التمش کو دیتا تھا اور اس طرح یہ پوری چین اس گھناؤنے کام میں ملوث تھی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں