ہفتہ, جولائی 18, 2026
اشتہار

غیر قانونی گردہ ٹرانسپلانٹ نیٹ ورک کے 2 ملزمان گرفتار، تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آگئے

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد (7 جون 2026): فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے غیر قانونی گردہ ٹرانسپلانٹ نیٹ ورک کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا، اس سلسلے میں تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آگئے۔

ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے مقدمہ نمبر 16/2026 میں مطلوب مرکزی ایجنٹ شبیر حسین کو جلال پور بھٹیاں ضلع حافظ آباد سے اس کے قریبی ساتھی اور مبینہ سب ایجنٹ غلام عباس کو تحصیل میاں چنوں ضلع خانیوال سے گرفتار کیا۔

ملزمان پر الزام ہے کہ وہ مالی طور پر کمزور اور مستحق افراد کو معمولی معاوضے کا لالچ دے کر غیر قانونی انسانی گردہ ٹرانسپلانٹ نیٹ ورک کیلیے ڈونرز کا انتظام کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: الزام ہے ڈاکٹر نے بغیر رضا مندی بے ہوش کر کے شہری کا گردہ نکالا، جسٹس ہاشم کاکڑ

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ایف آئی اے نے اسی مقدمے میں قبل ازیں اسلام آباد میں کامیاب کارروائی کرتے ہوئے ڈاکٹر نادر اور اس کی ٹیم کو مبینہ طور پر غیر قانونی انسانی گردہ ٹرانسپلانٹ میں ملوث ہونے پر گرفتار کیا تھا جن کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کیا گیا۔

ایف آئی اے کی جاری تحقیقات کے مطابق اب تک حاصل ہونے والے شواہد سے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر نادر مبینہ طور پر تقریباً 187 غیر قانونی انسانی گردہ ٹرانسپلانٹس میں ملوث رہا ہے۔

تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ اس منظم نیٹ ورک کے ذریعے ہر گردہ ٹرانسپلانٹ کے عوض ریسیپینٹس (Recipients) سے 60 لاکھ روپے جبکہ بعض کیسز میں ایک کروڑ روپے تک وصول کیے جاتے تھے، جبکہ گردہ عطیہ کرنے والے غریب، نادار اور مالی مشکلات کا شکار افراد کو محض چند لاکھ روپے ادا کر کے باقی خطیر رقم نیٹ ورک کے مختلف ارکان میں تقسیم کر لی جاتی تھی۔

گرفتار مرکزی ایجنٹ شبیر حسین اپنے ماتحت سب ایجنٹس کے ذریعے پنجاب اور اسلام آباد کے مختلف علاقوں خصوصاً بھٹہ خشت کے مزدوروں، دیہاڑی دار افراد اور دیگر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو معمولی مالی لالچ دے کر گردہ عطیہ کرنے پر آمادہ کرتا تھا۔

ایف آئی اے کے مطابق اب تک سامنے آنے والے شواہد سے معلوم ہوا کہ وہ مبینہ طور پر 50 سے زائد گردہ ڈونرز ڈاکٹر نادر کو فراہم کر چکا تھا۔

مزید تحقیقات کے دوران یہ اہم انکشاف بھی سامنے آیا کہ اس غیر قانونی نیٹ ورک کے ذریعے انسانی اعضاء کی پیوندکاری سے متعلق سرکاری ادارہ ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی سے مبینہ طور پر جعلی اور دھوکہ دہی پر مبنی دستاویزات کے ذریعے منظوری حاصل کی جاتی رہی جبکہ متعلقہ ایویلیوایشن کمیٹی کی قانونی منظوری سرے سے موجود نہیں تھی۔

ایف آئی اے اس پہلو کی بھی تفصیلی تحقیقات کر رہی ہے تاکہ اس فراڈ میں ملوث تمام عناصر کو قانون کے مطابق گرفتار کیا جا سکے۔

ایف آئی اے کی تحقیقات کے مطابق ڈاکٹر نادر کا مبینہ نیٹ ورک صرف پاکستانی شہریوں تک محدود نہیں تھا بلکہ افغان، چینی اور سعودی شہریوں کے گردہ ٹرانسپلانٹس میں بھی ملوث رہا ہے، اس حوالے سے غیر ملکی مریضوں کے ریکارڈ، مالی لین دین اور دیگر شواہد کا فرانزک اور قانونی تجزیہ جاری ہے۔

اہم ترین

مزید خبریں