پروفیسر طاہرہ قتل کیس، تینوں ملزمان گرفتار، آلہ قتل بھی برآمد professor tahira
The news is by your side.

Advertisement

پروفیسر طاہرہ قتل کیس، ملزمان گرفتار، آلہ قتل برآمد

لاہور : سی آئی اے پولیس نے پروفیسر خاتون کے قتل کیس میں پہلے سے گرفتار ملزم کی نشاندہی پر مزید دوملزمان کو گرفتار کرکے آلہ قتل برآمد کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق سی آئی پولیس نے  پروفیسر طاہرہ پروین قتل کیس  میں مطلوب تینوں ملزمان کو حراست میں لے کرآلہ قتل برآمد کرلیا ہے جب کہ ملزمان کو تھانے منتقل کردیا ہے جہاں تحقیقات کا عمل جاری ہے۔

ایس پی سی آئی اے طارق مستوئی نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ پروفیسرطاہرہ پروین کو ڈکیتی کے دوران مذاحمت پر چھریاں مار کر قتل کیا گیا جس کے منصوبہ ساز سمیت مرکزی ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔

ایس پی طارق مستوئی نے صحافیوں کو بتایا کہ مرکزی ملزم سجاد الیکٹریشن کا کام کرتا ہے جو پروفیسر صاحبہ کے گھر کام کاج کے لیے آتا رہتا تھا اور انہیں اکیلا پاکر ڈکیتی کی منصوبہ بندی کی جس میں شریک ملزمان حماد اسلم اور سنیل مسیحی نے معاونت کی اور گھر میں داخل ہوکر سو ڈالراور ایک موبائل فون چوری کرلیا۔

 اسی سے متعلق : پنجاب یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر طاہرہ پروین کا قاتل  یونیورسٹی کا الیکٹریشن نکلا

تاہم پروفیسر صاحبہ عین موقع پر گھر آگئیں اور انہیں پکڑلیا جس پر پکڑے جانے کے خوف سے تنیوں نے مل کر پروفیسر طاہرہ پروین کو چھریاں مار کر قتل کردیا اور فرار ہوگئے۔

ایس پی سی آئی اے کا کہنا تھا کہ پولیس نے نہ صرف یہ کہ تینوں ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے بلکہ ان سے آلہ قتل بھی برآمد کرلیا ہے جسے عدالت کے سامنے پیش کر کے ملزمان کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں