site
stats
اہم ترین

ننھی زینب کا قاتل گرفتار کر لیا گیا: احمد رضا قصوری کا دعویٰ

Zainab
قاتل زینب کا قریبی رشتےدارہے

لاہور: سینئر وکیل احمد رضا قصوری نے دعویٰ کیا ہے کہ ننھی زینب کا قاتل گرفتار ہوگیا، قاتل زینب کا قریبی رشتےدارہے۔

یہ دعویٰ انھوں‌ نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

احمد رضا قصوری کا کہنا تھا کہ آج ان کی سہ پہر پونے تین بجے چیف جسٹس آف پاکستان سے ان کے چیمبر میں‌ ملاقات ہوئی تھی، وہ قصور کے بزرگ شہری کی حیثیت سے از خود نوٹس پر ان کا شکریہ ادا کرنے گئے تھے۔ اس موقع پر انھیں‌ چیف جسٹس نے بتایا کہ قاتل کی گرفتاری کی خبر موصول ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :زینب قوم کی بیٹی تھی، واقعےپر پوری قوم کا سر شرم سے جھک گیا، چیف جسٹس

یاد رہے کہ زینب کے والد کی اپیل پر کل آرمی چیف اور چیف جسٹس آف پاکستان نے کیس کا از خود نوٹس لیا تھا۔ چیف جسٹس نے آج ایک کیس کی سماعت کے دوران قصور واقعے کے تذکرے پر ریمارکس دیے تھے کہ زینب قوم کی بیٹی تھی، واقعے پر پوری قوم کا سر شرم سے جھک گیا۔

احمد رضا قصوری کا کہنا تھا کہ وہ اس لیے یہ خبر دے رہے ہیں‌ کہ شاید احتجاج کا سلسلہ رک جائے۔ یاد رہے کہ ننھی زینب کے قتل کے بعد قصور کے عوام کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تھا، جس پر پولیس کی فائرنگ کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے۔ فائرنگ سے تین مظاہرین جاں بحق ہوگئے تھے۔

آج زینب کے والد نے اپیل کی تھی کہ احتجاج کو پرامن رکھیں، کسی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں۔

یہ بھی پڑھیں: وقت پر کارروائی ہوتی تو آج میری بچی زندہ ہوتی ،زینب کے والد

واضح رہے کہ ابھی احمد رضا قصوری کے دعویٰ کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں‌ ہوئی ہے۔ دوسری جانب آر پی او شیخوپورہ ذوالفقارحمید نے زینب کے قاتل کی گرفتاری کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے جب کوئی پیش رفت ہوگی، تو سب کو اعتماد میں لیاجائےگا، تفتیش جاری ہے، بہت جلد ملزم تک پہنچ جائیں گے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل اغوا ہونے والی ننھی زینب کو درندوں نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا کردیا تھا، سات سالہ بچی زینب کو گذشتہ روز آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا، زینب کی نمازجنازہ علامہ طاہرالقادری نے پڑھائی تھی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top