The news is by your side.

Advertisement

بلوچستان: 20 افراد کے قتل میں اہم پیشرفت، مرکزی ایجنٹ گرفتار

کوئٹہ: بلوچستان کے علاقے تربت میں قتل ہونے والے 20 افراد کی تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، ایف آئی اے نے مرکزی ایجنٹ کو گرفتار کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق چار روز قبل 15 نومبر 2017 تربت کے علاقے گروک سے علی الصباح پنجاب کے مختلف علاقوں سیالکوٹ، گوجرانوالہ، وزیرآباد، منڈی بہاؤالدین اور گجرات سے تعلق رکھنے والے 15 افراد کی گولیاں لگیں لاشیں برآمد ہوئیں۔

ترجمان بلوچستان حکومت کے مطابق مذکورہ افراد غیر قانونی طریقے سے سرحد عبور کر کے چین کے راستے یورپ جانا چاہتے تھے جنہیں نامعلوم شرپسندوں نے فائرنگ کر کے قتل کیا۔

ابھی مذکورہ افراد کی لاشیں اُن کے آبائی علاقے پہنچائی گئی تھی کہ اگلے ہی روز 18 نومبر کو تربت کے علاقے تجابان سے 5 مزید  گولیاں لگی لاشیں برآمد ہوئیں۔

بلوچستان حکومت کا کہنا تھا کہ ’گروک میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے ڈاکٹر اللہ نذر گروپ ملوث ہے تاہم دوسری کارروائی کی تاحال کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی‘۔

مزید پڑھیں: تربت سے 15 افراد کی گولیاں لگی لاشیں برآمد

بعد ازاں 17 نومبر کو سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع ملنے پر تربت کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے سانحہ میں ملوث دہشت گرد یونس تکلی کو مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے گاؤں عبد الرحمٰن میں دہشت گردوں کے ٹھکانے کا گھیراؤ کیا تو دہشت گردوں نے اہلکاروں پر فائرنگ شروع کردی، سیکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں کالعدم تنظیم کا اہم کمانڈر یونس توکلی ہلاک ہوا جو سانحہ تریت کا اہم ملزم تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ تربت میں ملوث یونس توکلی ایف سی سے مقابلے میں ہلاک

تربت میں قتل ہونے والے 20 افراد کی تحقیقات کے معاملے میں اہم پیشرفت اُس وقت سامنے آئی جب ایف آئی اے نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث مرکزی ایجنٹ کو کوئٹہ سے گرفتار کیا۔

ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ملزم وحید کی نشاندہی پر مرکزی ایجنٹ محمد صادق کو گرفتار کیا گیا، سانحہ تربت میں جاں بحق ہونے والے ذوالفقار کو ملزم وحید نے مرکزی ایجنٹ صادق خان کے حوالے کیا گیا۔

 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں