The news is by your side.

Advertisement

“زمزمہ” کی ہیبت اور گھن گرج اب محض ایک داستان ہے

ہندوستان کی تاریخ کے اوراق میں‌ جہاں‌ کئی حکم رانوں، سپاہ سالاروں، جنگوں اور فتوحات کا تذکرہ محفوظ ہے، وہیں‌ چند ایسی توپوں کا ذکر بھی پڑھنے کو ملتا ہے جو ایک یادگار کے طور پر آج بھی محفوظ ہیں۔

ایک ایسی ہی تاریخی توپ زمزمہ ہے جو لاہور شہر میں‌ محفوظ ہے۔ اسے کمز گن (Kim’s Gun) اور بھنگیاں والا توپ بھی کہا جاتا ہے۔ تاریخ‌ بتاتی ہے کہ اسے احمد شاہ ابدالی کے حکم پر اس کے وزیر شاہ ولی نے 1757ء میں تیار کروایا۔ اس توپ کی لمبائی 14 فٹ ساڑھے چار انچ اور نال کا قطر ساڑھے 9 انچ ہے جس سے آہنی گولہ داغا جاسکتا تھا۔ احمد شاہ ابدالی نے 1761ء کی پانی پت کی جنگ میں یہی توپ مرہٹوں کے خلاف استعمال کی تھی۔ مشہور ہے کہ کابل لوٹتے ہوئے وہ یہ توپ اُس وقت کے لاہور کے گورنر کے سپرد کر گیا تھا۔

1762ء میں یہ توپ ایک سکھ جرنیل ہری سنگھ بھنگی کے قبضے میں آگئی اور اسی نسبت بھنگیوں کی توپ کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس توپ کا سفر جاری رہا اور آخر کار رنجیت سنگھ 1802ء میں اسے امرتسر سے لاہور لے آیا اور انگریزوں نے لاہور پر قبضہ کیا تو اسے مال روڈ پر بطور نمائش رکھ دیا۔

اس توپ کی تیاری میں پانچ سال لگے تھے اور یہ اُس دور کی سب سے بڑی توپ تھی جسے انجینیئروں‌ نے تانبے اور پیتل سے بنایا تھا۔ شاہ ولی خان ہی نے اس توپ کا نام زمزمہ رکھا تھا جس کے کئی معنی ہیں۔ فارسی میں‌ یہ لفظ شیر کی گرج کے لیے برتا جاتا رہا ہے اور کہتے ہیں‌ کہ توپ کو یہ نام اسی مناسبت سے دیا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں