بدھ, جون 10, 2026
اشتہار

پرندے کا گیت (ایک لوک کہانی)

اشتہار

حیرت انگیز

یہ کہانی ہے چین کے ایک بادشاہ کی جس کا محل اور باغ اپنی خوب صورتی کے لیے دنیا بھر میں مشہور تھا۔ کہتے ہیں کہ اسے خالص چینی مٹی سے بنایا گیا تھا۔ اس کے مرکزی ہال، کمروں کی وسعت اور راہ داریوں کی کشادگی ایک طرف اس سے منسلک باغات اتنے وسیع تھے کہ خود اس کی دیکھ بھال کرنے والوں اور مالی کو بھی نہیں معلوم تھا کہ وہ کہاں ختم ہوتے ہیں۔ اس باغ کی انتہا پر گہرا نیلا سمندر تھا، جس کے ساحل پر درختوں میں ایک چھوٹی سی بلبل رہتی تھی۔

اس بلبل کو خدا نے بہت ہی خوبیوں سے نوازا تھا۔ وہ اتنا خوب صورت گاتی تھی کہ اس ساحل کے قریب سے گزرنے والے بحری جہاز، سیر کو آنے والے لوگ اور مچھیرے بھی اس کا گانا سن کر سحر زدہ رہ جاتے۔ اس محل اور باغ کو دیکھنے دنیا بھر سے سیاح بادشاہ کے ملک میں آتے تھے اور جب وہ باغ کے درختوں، پھول پودوں کی رنگا رنگ اور خوش بو بھری حد سے نکل کر سمندر کے کنارے پہنچتے اور وہ بلبل اس وقت اگر گاتی تو سب سننے پر مجبور ہوجاتے۔ وہ سب یہ کہنے پر مجبور ہوجاتے کہ اس محل اور اس کے باغ کی سیر ایک طرف مگر ان سب چیزوں میں سب سے بہترین بلبل کا یہ گانا ہے۔ وہ زیادہ تر رات کے وقت گاتی تھی۔ یہ سیاح اپنے اپنے ملکوں میں جاکر لوگوں کو بتاتے کہ انھوں نے ایک ایسی آواز سنی ہے جو ناقابل فراموش ہے۔ ان سیاحوں میں اکثر اہل قلم بھی شامل ہوتے جو واپس جاکر اپنے سفرناموں اور کتابوں میں اس محل اور باغ کے تذکرے کے ساتھ بلبل کے بارے میں بہت کچھ لکھتے۔ ایک روز کوئی ایسی ہی کتاب ایک مسافر چین کے اس بادشاہ کے پاس تحفتاً‌ لے کر حاضر ہوا۔ بادشاہ نے جب پڑھا کہ دنیا اس کے محل سے زیادہ اس کے باغ کی ایک چھوٹی سی چڑیا کی دیوانی ہے تو اسے بہت عجیب لگا۔ اس نے اپنے وزیرِ اعظم کو بلایا اور غصے سے کہا: "ہمارے ملک میں ایسی کمال کی چڑیا ہے اور ہمیں خبر تک نہیں؟ اسے ہمارے دربار میں گانے کے لیے حاضر کیا جائے!”

وزیراعظم نے اس بلبل کے بارے میں‌ باغ کے مالی سے پوچھا، تو اس نے اپنی بیٹی کا حوالہ دے کر بتایا کہ وہ اس بلبل کو اکثر جنگل میں سننے جاتی ہے، اور کہتی ہے کہ "اس کا گانا سن کر میری آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔” وزیراعظم اپنے چند درباریوں اور مالی کو لے کر جنگل کی طرف گیا۔ اور رات کو جیسے ہی بلبل نے گانا شروع کیا، سب دنگ رہ گئے۔ دھوکے سے اس بلبل کو قید کرکے وہ سب محل کو لوٹ‌ آئے۔ اگلے روز شام ڈھلے بلبل کو سونے کے پنجرے میں‌ ڈال کر بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا اور پھر بلبل نے گانا شروع کیا، تو اس کے گانے میں اتنا درد تھا کہ بادشاہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ شہنشاہ نے اسے اپنے گلے سے سونے کا ہار اتار کر بطور انعام دینا چاہا، مگر بلبل نے انسانوں کی طرح جواب دیا، "عالی جاہ! میں نے آپ کی آنکھوں میں آنسو دیکھ لیے ہیں، ایک فن کار کے لیے اس سے بڑا کوئی انعام نہیں ہوتا۔” بادشاہ نے بلبل کو بہت سراہا اور محل میں رکھ لیا۔ اسے پنجرے میں رکھا تو گیا مگر دن میں دو بار باہر ٹہلنے کی اجازت بھی دی گئی، لیکن اس طرح کہ اس کے پاؤں میں ریشم کے دھاگے باندھ دیے جاتے تھے۔ وہ اب آزاد نہیں تھی۔

ایک روز پڑوسی ملک سے ایک چابی کی چڑیا کا تحفہ اس بادشاہ کو موصول ہوا۔ اس چڑیا کو سونے سے بنایا گیا تھا اور ہیرے جواہرات جڑی ہوئی تھی۔ جب اسے چابی دی جاتی، تو وہ اصلی بلبل کی طرح ہی ایک دھن گاتی اور اس وقت چڑیا کی دُم سونے اور چاندی کی طرح چمکنے لگتی۔ درباریوں نے کہا: "یہ کتنی شان دار ہے! نہ یہ تھکتی ہے اور نہ اس کے پَر جھڑتے ہیں یا ان کا رنگ خراب ہوتا ہے۔” بادشاہ یہ سب سنتا مگر چپ رہتا تھا۔ اصلی بلبل تو اپنی مرضی سے گاتی تھی جب کہ مصنوعی چڑیا کو جب چاہا چابی دی اور وہ دھن بکھیرنے لگتی۔ آہستہ آہستہ بادشاہ اور سب کا دھیان اس چڑیا پر چلا گیا، اور بلبل ایک روز خاموشی سے ساحلی جنگل کی طرف اپنے ٹھکانے پر چلی گئی۔ اس کا علم اگلے روز بادشاہ کو ہوا تو وہ برہم ہوگیا اور اس بلبل کو ملک بدر کر دیا۔

کئی سال بعد بادشاہ شدید بیمار ہو گیا اور بسترِ مرگ پر آگیا۔ محل میں ہر طرف خاموشی تھی۔ ایک دن بادشاہ نے محسوس کیا کہ موت کا ہاتھ اس کے سینے پر ہے، وہ خوف سے کانپ رہا تھا۔ اس نے موسیقی سننا چاہی اور آواز دی مگر نقاہت کے سبب اس کی آواز دربان اور خدمت گاروں کے کانوں تک نہیں پہنچی۔ بادشاہ اپنے ریشمیں بستر سے اٹھ کر اس چڑیا کو چابی دینا چاہتا تھا تاکہ اس کی موسیقی سن سکے اور شاید راحت پائے۔ مگر وہ اٹھ بھی نہ سکا۔ اچانک، کھڑکی کے پاس سے ایک بے حد خوب صورت اور دلنشین آواز گونجی۔ یہ وہی بلبل تھی، جسے بادشاہ کی بیماری کا پتہ چلا تو وہ ہم دری کی غرض سے اسے زندگی کا گیت سنانے آئی تھی۔ جوں جوں بلبل گاتی گئی، بادشاہ کے جسم میں زندگی کی لہر دوڑنے لگی اور وہ اس گانے کے سحر میں گرفتار ہوکر توانائی پانے لگا۔ اس کے چہرے پر رونق نظر آنے لگی اور جب گانا ختم ہوا تو بادشاہ نے روتے ہوئے کہا: "اے آسمانی پرندے! میں نے تمہیں دربدر کیا، مگر تم نے میری بیماری کا سن کر میری جان بچا لی۔ میں اس سونے کی چڑیا کو توڑ دوں گا، تم ہمیشہ میرے پاس محل میں رہو۔”

بلبل نے جواب دیا: "نہیں عالی جاہ! اسے مت توڑیں، اس نے اپنی بساط کے مطابق آپ کا ساتھ دیا۔ میں پنجرے یا محل میں نہیں رہ سکتی۔ میرا گانا آزادی کا محتاج ہے۔ لیکن میں روز شام کو آپ کی کھڑکی پر آؤں گی، آپ کو خوشی کے گیت بھی سناؤں گی اور دکھ کی راگنی بھی چھیڑوں گی، اور آپ کو بتاؤں گی کہ آپ کی سلطنت میں کہاں ظلم ہو رہا ہے اور کہاں نیکی۔ بس آپ کسی کو یہ مت بتائیے گا کہ یہ سب آپ کو کون بتاتا ہے۔”

اگلی صبح خدمت گاروں نے دیکھا کہ بادشاہ کے چہرے پر بڑی رونق ہے اور وہ اپنی صحت میں‌ بہتری محسوس کررہا ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں