The news is by your side.

Advertisement

مراکش کے ساتھ ایران کے خلاف کام کریں گے، شاہ سلمان بن عبدالعزیز

ریاض : سعودی بادشاہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے مراکش کے حاکم شاہ محمد ششم کو مراکش میں بڑھتی ہوئی ایرانی مداخلت کے خلاف متحد ہوکر کام کرنے کی یقین دہانی کروا دی۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب امارات کے موجودہ حاکم شاہ سلمان بن عبدالعزیز آلسعود نے مراکش میں بڑھتی ہوئی ایرانی مداخلت پر مراکش کے فرمانروا شاہ محمد ششم سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف مل کر کام کریں گے۔

سعودی بادشاہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے مراکش کے فرمانروا شاہ محمد ششم سے بات کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ سعودی عرب اور اس کی عوام مراکش کے ہمراہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مراکش کو ایرانی حکومت سے لاحق خطرات میں سعودی عرب رباط کے ساتھ ہے اور مراکش کی سلامتی و استحکام کے لیے ہمیشہ کھڑا رہے گا۔

سعودی عرب اور مراکش کے رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی ایرانی مداخلت اور عرب ممالک کے خلاف ایرانی سازشوں اور ہتھکنڈوں کو ناکام کرنے کے لیے اتحاد و اتفاق کے ساتھ کام ہوگ۔

یاد رہے کہ چند روز قبل مراکش کے وزیر خارجہ بے ایران پر الزام عائد کیا تھا کہ تہران لبنانی تنظیم حزب اللہ کے ذریعے مراکش کی آزادی پسند گروپ پولیساریو فرنٹ کو اسلحہ اور تربیت فراہم کرنے میں مدد کررہا ہے، جو ملکی سلامتی کے لیے انتہائی خطرانک بات ہے۔


ملکی معاملات میں مداخلت، مراکش نے ایران سے تعلقات منطقع کردیئے


مراکشی وزیر خارجہ نے ایران پر الزامات کی برسات کرنے کے بعد تہران سے سفارتی تعلقات منطقع کرتے ہوئے ایرانی سفیر کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا تھا اور تہران میں موجود مراکشی سفارت خانے کو بھی بند کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ جس کے بعد سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک نے مراکش سے اظہار یکجہتی کیا تھا۔

واضح رہے کہ مغربی صحارا کا ایک حصّہ مراکشی کی حکومت کے قبضے میں ہے جبکہ ایک حصّہ صحارا کی آزادی پسند تنظیم پولیساریو فرنٹ کے زیر انتظام ہے۔ ان دونوں خطوں کے مایبن ایک اور علاقہ ہے جسے اقوام متحدہ نے اپنے اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔

خیال رہے کہ ایران اور مراکش کے تعلقات شروع سے ہی نازک رہے ہیں، سنہ 2009 میں بھی مراکش نے ایرانی حکومت کے ساتھ بحرین کے معاملے پر اپنے سفارتی تعلقات منقطع کردیئے تھے۔ جو سنہ 2014 میں دوبارہ سے بحال گئے تھے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں