The news is by your side.

Advertisement

کراچی: صوبائی حکومت کی کٹوتیاں، بلدیہ عظمیٰ کا بجٹ متاثر

کراچی: بلدیہ عظمیٰ کراچی کے نئے مالی سال کے بجٹ میں ایک ارب کی نمایاں کمی کی گئی ہے، صوبائی حکومت کی کٹوتیوں سے کے ایم سی کا بجٹ متاثر ہوا۔

تفصیلات کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کا آیندہ مالی سال کے لیے 26 ارب 44 کروڑ کا مجوزہ سرپلس بجٹ تیار کر لیا گیا، کے ایم سی کا 19-2018 میں 27 ارب روپے کا بجٹ رکھا گیا تھا۔

بلدیہ عظمیٰ کے نئے مالی سال کے بجٹ میں ایک کروڑ بچت ظاہر کی گئی، بجٹ کے اعداد و شمار کے مطابق نئے مجوزہ بجٹ میں 26 ارب 44 کروڑ وصولی کا تخمینہ ہے۔

20-2019 کے مجوزہ بجٹ میں اخراجات کا تخمینہ 26 ارب 43 کروڑ ہے، یہ بجٹ کل پیش کیا جائے گا، نئے مالی سال میں کراچی میں ترقیاتی کاموں کے لیے 3 ارب 33 کروڑ رکھے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:  میئرکراچی کا کے ایم سی کے اخراجات میں کمی کا اعلان

نئے مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں 390 نئی اور 273 جاری اسکیمیں شامل ہیں۔

میئر کراچی وسیم اختر بجٹ منظوری کے لیے اسے جمعرات کو سٹی کونسل میں پیش کریں گے، بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ایک ہفتے قبل میئر کراچی وسیم اختر نے کہا تھا کہ بلدیہ عظمی کراچی کا آیندہ مالی سال کا میزانیہ ترتیب دینے میں مشکلات ہیں، حکومت نے ضلعی ترقیاتی پروگرام میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 1600 ملین کم مختص کیے ہیں۔ رواں سال چوتھا کوارٹر نہیں ملا اس صورت حال میں شہر کی ترقی کا عمل بری طرح متاثر ہو گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں