site
stats
سندھ

چھرا مارکی تلاش پولیس کی کمائی کا ذریعہ بن گئی، پچاس سے زائد گرفتاریاں

knife

کراچی : پولیس نے اصل چھرے مارکے تلاش میں پچاس سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا، چھری مارملزم کا تعلق ایم کیو ایم لندن سے ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے، چھ روز سے گرفتار کیبل آپریٹر کی رہائی کیلئے اہل خانہ سے مبینہ طورپر دولاکھ روپے رشوت کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پولیس نے اصل چھرے مارکے تلاش میں شہریوں کو تاوان کے لیے اغواء کرنا شروع کردیا، کراچی پولیس مختلف وارداتوں میں ملوث ملزم کی گرفتاری میں بری طرح ناکام ہوگئی، چھری مارکی گرفتاری کو اپنی کمائی کا ذریعہ بنا لیا۔

جرائم پیشہ ملزم جیسا اصل چھرا مار ہاتھ نہ آیا تو پولیس نے غریبوں کو ستانا شروع کردیا، کراچی پولیس نے گلشن اقبال سے چھ روز قبل کیبل آپریٹر آصف کو گرفتار کیا تھا۔

آصف کی گرفتاری پراس کے اہل خانہ اورعلاقہ مکین سراپا احتجاج ہیں، احتجاجی مظاہرہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیبل آپریٹر آصف کی والدہ نے بتایا کہ پولیس نے میرے بیٹے کی ٹانگ پر گولی ماری اب اس کی رہائی کیلئے دولاکھ روپے مانگ رہی ہے۔

واضح رہے کہ چھبیس روز گزرنے کے باوجود پولیس چھرا مار چھلاوے تک تاحال نہ پہنچ سکی، ذرائع کے مطابق پولیس نے اس حوالے سے ایم کیو ایم لندن پر شک بھی ظاہر کیا ہے۔


مزید پڑھیں: چھری مارچھلاوے کو پکڑنے کیلئے چھ سو پولیس اہلکار تعینات


اب تک گلشن اقبال ڈویژن سے پچاس سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے، مشتبہ افراد میں ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی کے کارکنان بھی شامل ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top