The news is by your side.

Advertisement

کوہلی کا ڈپریشن میں رہنے کا اعتراف، کس کی مدد سے چھٹکارا پایا؟

نئی دہلی: انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی نے اپنے “دماغی صحت” سے متعلق اہم اعتراف کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ویرات کوہلی نے اعتراف کیا ہے کہ سال دوہزار چودہ میں انگلینڈ سیریز میں ناکامی کے باعث وہ ڈپریشن کا شکار ہوئے تھے، اس دوران وہ خود کو دنیا کا تنہا ترین” شخص سمجھتے تھے۔

انہوں نے یہ اس بات کا اعتراف سابق کرکٹر مارک نکولس کے ساتھ پاڈ کاسٹ پر گفتگو کے دوران کیا، کوہلی نے بتایا کہ صبح اٹھتے ساتھ انہیں یہ احساس ہوتا تھا کہ وہ رنز بنانے کے قابل نہیں رہے۔

کوہلی کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں ہر بلے باز کو ایک خاص موقع پر یہ ضرور محسوس ہوتا ہے کہ ان کے قابو میں کچھ نہیں رہا، ’وہ ایک ایسا دور تھا جب میں حالات کو بدلنے کے لیے کچھ نہیں کر سکتا تھا، خاندان کی حمایت کے باوجود وہ خود کو تنہا محسوس کرتے تھے۔

دنیائے کرکٹ میں سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان نے بتایا کہ ڈپریشن کو کم کرنے کے لئے سابق انڈین کپتان سچن ٹنڈولکر سے گفتگو کی، لیجنڈ بلے باز نے مجھے مشورہ دیا کہ ڈپریشن سے لڑنے کے بجائے ان احساسات سے خود کو گزرنے دیا جائے۔

اب ویرات کوہلی کا کہنا ہے کہ اگر ان خيالات سے لڑنا شروع کر دیں، تو یہ زیادہ مضبوط ہوتے چلے جاتے ہیں، میں نے ٹنڈولکر کے اس مشورے پر عمل کیا، جس کے نتیجے میں اس بیماری پر قابو پانے میں بڑی مدد ملی۔

یاد رہے کہ سال دوہزار چودہ کی انگلینڈ سیریز کے دوران کوہلی نے پانچ ٹیسٹ میچز میں 13.50 کی اوسط سے رنز اسکور کیے تھے، اس ٹیسٹ سیریز میں انڈیا کو انگلینڈ کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں