The news is by your side.

Advertisement

کوہلی اپنے ہی ہاتھوں سے کپتانی گنوانے لگے

ویرات کوہلی اپنے ہی ہاتھوں سے کپتانی گنوانے لگے ان کی ناقص انفرادی کارکردگی اور کپتانی پر ‏سوالات اٹھنے لگے۔

انگلینڈ سے ہوم سیریز میں پہلا ٹیسٹ ہارنے کے بعد سوشل میڈیا پر انجنکیا رہانے کو کپتان بنانے ‏کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔

آسٹریلیا کے خلاف تاریخی فتح کے بعد رہانے کے حق میں آوازیں اٹھنے لگی تھیں لیکن بورڈ نے ‏کوہلی پر بھرپور اعتماد کرتے ہوئے انہیں کپتان برقرار رکھا۔

ایک جانب کوہلی کی اپنی پرفارمنس مایوس کن ہے تو دوسری جانب ان کی کپتانی میں ٹیم خاطر ‏خواہ کامیابیاں نہیں سمیٹ پا رہی۔ ‏

ویرات کوہلی کی سنچریوں کو بریک لگے 444 دن گزر گئے اور وہ 100 کے ہندسے کا جمود نہ توڑ ‏سکے۔ گزشتہ سال بابراعظم نے سنچری بنانے والے بلے بازوں میں کوہلی کو پیچھے چھوڑا اور اب ‏یاسر شاہ نے کوہلی کو ٹف ٹائم دے دیا ہے۔

کوہلی نے گزشتہ 32 انٹرنیشنل اننگز میں ایک بھی سنچری اسکور نہیں کی جب کہ یاسر شاہ یہ ‏کارنامہ انجام دے چکے۔

گزشتہ سال ایڈیلیڈ میں سخت حریف آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ میں یاسر شاہ نے سنچری بنائی تھی ‏جب کی کوہلی نے بنگلادیش کے خلاف سال کے آغاز پر آسان حریف بنگلادیش کے خلاف سنچری ‏جڑی تھی۔

کوہلی کو آخری سنچری بنائے 444 دن گزر چکے اور وہ تاحال سنچری تک نہ پہنچ سکے، اس دوران ‏‏73 بلے بازوں جن میں یاسر شاہ بھی شامل ہیں وہ انٹرنیشنل میچ میں 100 کا ہندسہ عبور کر چکے۔

دورہ آسٹریلیا کوہلی کے لیے بطور بیٹسمین اچھا ثابت نہیں ہوا اور رواں سال انگلینڈ کے ‏خلاف ہوم سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں بھی وہ ناکام رہے۔

انگلینڈ سے پہلی شکست کے بعد سوشل میڈیا پر انجنکیا رہانے کو کپتان بنانے کے لیے بھرپور مہم ‏چلائی جارہی ہے۔ صارفین نے کوہلی سے سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ قیادت اب ‏رہانے کو سونپ دی جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں