The news is by your side.

Advertisement

کُو بہ کُو پھیل گئی بات شناسائی کی

کُو بہ کُو پھیل گئی بات شناسائی کی
اس نے خوشبو کی طرح میری پزیرائی کی

کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا اُس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

وہ کہیں بھی گیا، لوٹا تو میرے پاس آیا
بس یہی بات ہے اچھی میرے ہرجائی کی

تیرا پہلو، ترے دل کی طرح آباد رہے
تجھ پہ گزرے نہ قیامت شبِ تنہائی کی

اُس نے جلتی ہوئی پیشانی پر جب ہاتھ رکھا
رُوح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی

اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے
جاگ اُٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی

**********

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں