The news is by your side.

Advertisement

فیکٹری میں آگ، رضاکار میتیں لے جانے کے لیے لڑتے رہے

کراچی: کورنگی مہران ٹاؤن کی کیمیکل فیکٹری میں‌ آتش زدگی میں‌ سولہ انسانی جانوں‌ کے نقصان کے علاوہ ایک افسوس ناک واقعہ یہ بھی پیش آیا کہ ایدھی اور چھیپا کے رضاکار میتیں‌ لے جانے کے لیے آپس میں‌ لڑتے رہے۔

اے آر وائی نیوز کے نمائندے افضل پرویز کے مطابق جب فیکٹری کے ہولناک واقعے کے بعد ریسکیو آپریشن جاری تھا تو اس دوران ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا، ریسکیو ٹیم نے فیکٹری سے ایک لاش نکال کر جیسے ہی نیچے اتاری، ایدھی اور چھیپا کے رضا کار اسے لے جانے کے لیے آپس میں بری طرح الجھ پڑے۔

اس افسوس ناک واقعے کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ رضاکار کس طرح جھلس کر جاں بحق ہونے والے ایک مزدور کی میت کے لیے کھینچا تانی کر رہے ہیں، اس کھینچا تانی کی وجہ سے لاش بھی نیچے گر گئی، لیکن میتوں کی بے حرمتی کے باوجود ایدھی اور چھیپا کے رضاکار بے حسی کا مظاہرہ کرتے رہے۔

خیال رہے کہ مہران ٹاؤن میں ریسکیو آپریشن کے دوران ایک ایدھی رضاکار بھی زخمی ہوا۔

واضح رہے کہ آج کراچی کے علاقے کورنگی مہران ٹاؤن کی فیکٹری میں ہول ناک آگ سے 16 مزدور زندہ جل گئے، آگ صبح 10 بجے کے قریب لگی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لیپٹ میں لے لیا، علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں تاخیر سے پہنچیں، جس کے باعث آگ پوری عمارت میں پھیل گئی اور اندر کام کرنے والے مزدور پھنس گئے۔

جلنے والی فیکٹری سے متعلق بڑا انکشاف، جاں بحق مزدوروں کے ناموں کی فہرست بھی جاری

مزدوروں کے اہل خانہ کی بڑی تعداد فیکٹری کے باہر جمع ہوگئی تھی، لواحقین نے الزام لگایا کہ فیکٹری انتظامیہ نے پھنسے ہوئے مزدوروں کو نکالنے کی بجائے فیکٹری میں تالے ڈال دیے تھے، فیکٹری سے باہر نکلنے کا ایک ہی راستہ تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عمارت کی چھت پر جانے والے دروازوں پر بھی تالے تھے، جس کے باعث زیادہ جانی نقصان ہوا۔

ریسکیو حکام کے مطابق 4 گھنٹے بعد آگ بجھائی گئی، آپریشن کے دوران دو ریسکیو اہل کار بھی زخمی ہوئے، اس وقت فیکٹری میں کولنگ کا عمل جاری ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں