The news is by your side.

Advertisement

کراچی: کمسن بیٹی کو قتل کرنے والا سفاک باپ گرفتار

کراچی: سندھ پولیس نے کمسن بیٹی کو قتل کرنے والے باپ عبدالحکیم کو حراست میں لے لیا جس نے سالگرہ کا کیک نہ کھانے پر مسکان نامی بچی کو موت کی نیند سلا دیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے کورنگی میں واقع زمان ٹاؤن میں دو روز قبل عبدالحکیم نامی سفاک باپ نے اپنی سات سالہ کمسن بیٹی مسکان کو سالگرہ کا کیک نہ کھانے پر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔

عبدالحکیم نے نشے کی حالت میں بچی پر شدید تشدد کیا جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہوگئی تھی، سفاک باپ کارروائی کے بعد جائے وقوعہ سے فرار ہوگیا تھا۔

آئی جی سندھ پولیس ڈاکٹر کلیم امام نے قتل کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی کورنگی کو تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ملزم کی جلد از جلد گرفتاری کا حکم دیا تھا۔

مزید پڑھیں: سالگرہ کا کیک نہ کھانے پر باپ نے چھ سالہ بیٹی کو قتل کردیا

ایس ایس پی کورنگی علی رضا نے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ زمان ٹاؤن پولیس نے اب سے کچھ دیر قبل سفاک بیٹی کے قتل میں ملوث باپ کو گرفتار کر لیا، ملزم نشے کا عادی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ قتل سے متعلق تفتیش جاری ہے جس میں پیشرفت کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ زمان ٹاؤن تھانہ میں بچی کے قتل کا مقدمہ 111/2019 والد کے خلاف قتل کی دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔ مقتولہ کی والدہ نے پولیس کو بیان دیا تھا کہ مسکان کی سالگرہ تھی اور وہ اپنے والد کا لایا ہوا کیک نہیں کھا رہی تھی، جس پر عبدالحکیم کو غصہ آیا اور پھر اُس نے تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔

مقتولہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ عبدالحکیم اس سے قبل بھی دیگر جرائم کی وارداتوں میں ملوث تھا اور جیل کی سزا کاٹ کر آچکا ہے۔

یاد رہے کہ اسی طرح کا ایک واقعہ رواں ماہ کے آغاز میں پیش آیا تھا جب کراچی کےعلاقے کلفٹن میں اپنی پھول جیسی کمسن ڈھائی سالہ بیٹی انعم کو سمندر میں ڈبو کرقتل کرنے کے بعد ماں نے خود بھی خودکشی کی کوشش کی تھی۔ ملزمہ کے اہل ِ خانہ کا کہنا تھا کہ وہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی، ماں نے ڈھائی سالہ بچی کو سمندر میں ڈبو کر قتل کردیا

دوسری جانب گزشتہ سال دسمبر میں صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا میں ایک باپ نے اپنی معاشی حالت میں بہتری کے لیے جعلی عامل کے حکم پر عمل کرتے ہوئے ڈیڑھ سالہ بیٹی مبینہ طور پر قتل کردی تھی ، پولیس نے والد اور عامل دونوں کو گرفتار کرلیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں