The news is by your side.

Advertisement

دفاعی نقطۂ نگاہ سے تعمیر کردہ وہ قلعہ جس پر کبھی یلغار نہیں ہوئی

وادیَ سندھ پانچ ہزار سالہ قدیم تہذیب اور ثقافت کی امین بتائی جاتی ہے اور اس سرزمین پر قبل از تاریخ کے وہ آثار آج بھی دیکھے جاسکتے ہیں جنھیں عجائبِ ارضِ پاکستان شمار کیا جاتا ہے۔

سندھ دھرتی پر موجود قعلے صدیوں پہلے کے حکم رانوں کی شان و شوکت، جاہ و جلال کے گواہ اور اپنے طرزِ‌ تعمیر میں‌ ہر لحاظ سے منفرد و یگانہ ہیں‌ جن میں سے ایک کوٹ ڈیجی کا قلعہ بھی ہے۔ اگرچہ اس قلعے کی تاریخ اتنی پرانی نہیں‌ جتنی کہ کوٹ ڈیجی شہر کی ہے جو اس سے قدیم ہے، لیکن یہ قلعہ بھی سندھ میں طرزِ تعمیر کے لحاظ سے منفرد اور نہایت شان دار ہے۔ شاید آپ کو بھی اس قلعے کی سیر اور ماضی میں‌ جانے کا موقع ملا ہو۔ یہاں‌ ہم اس قلعے سے متعلق بنیادی معلومات اور اس کی نمایاں خصوصیات کا تذکرہ کررہے ہیں‌ جو آپ کی دل چسپی کا باعث ہو گا۔

کوٹ ڈیجی کا قلعہ دریائے سندھ سے مشرق میں قومی شاہراہ پر 40 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے، خیر پور سے اس قلعہ کا فاصلہ 25 کلو میٹر ہے۔ اس کی دیواریں 2265 گز جب کہ قلعہ کی مکمل عمارت 94000 مربع گز پر مشتمل ہے۔

کوٹ ڈیجی کا قلعہ ایک پہاڑی پر بنایا گیا تھا جو سطحِ زمین سے لگ بھگ 100 فٹ اونچی ہے۔ جس پہاڑی پر یہ قلعہ تعمیر کیا گیا ہے، اس کی لمبائی کے لحاظ سے یہاں چاروں طرف جو دیواریں‌ اٹھائی گئی‌ ہیں وہ تقریبا تیس فٹ بلند ہیں اور اسی میں‌ دفاع کو مدنظر رکھتے ہوئے تین ٹاور بھی بنائے گئے تھے، جن کی بلندی پچاس فٹ کے لگ بھگ ہے۔

یہ قلعہ خیر پور ریاست کے پہلے حکم راں میر سہراب خان تالپور نے تعمیر کرایا تھا۔ انھوں نے کوٹ ڈیجی کو اپنا دارُالخلافہ بنا اس کی تعمیر کا کام 1785ء میں شروع کروایا جو 1795ء میں ختم ہوا۔ مشہور ہے کہ اس کے لیے ایرانی ماہرِ فنِ تعمیر سے مدد لی گئی تھی جس نے اسے ڈیزائن کیا تھا اور یہ اسی کے نام سے منسوب تھا، لیکن بعد میں‌ اسے کوٹ ڈیجی شہر کی نسبت پہچانا جانے لگا۔ اس قلعے کے ساتھ ہی اس وقت ایک شہر بھی آباد تھا۔

قلعے کا مرکزی‌ راستہ مشرق کی جانب سے ہے جس کی بناوٹ میں دفاع اور قلعے کے تحفظ کو اہمیت دی گئی ہے۔ دراصل اس دروازے میں‌ آہنی میخیں‌ جڑی گئی ہیں‌ جو اس دور کے انجینئروں کی اختراع اور کاری گروں‌ کی مہارت کا نمونہ ہے۔ یہ آہنی میخیں اس دروازے کی خوب صورتی بڑھاتی ہیں جس سے گزرنے پر احساس ہوتا ہے کہ کسی منظّم عمارت اور نہایت اہمیت کے حامل محفوظ شہر یا آبادی میں‌ داخل ہوگئے ہیں۔

اس زمانے میں قلعوں کے دروازے توڑنے کے لیے ہاتھیوں کا استعمال کیا جاتا تھا جو اس سے اپنا سر ٹکراتے اور مسلسل ضربوں‌ سے اسے توڑ دیتے یا کم زور کردیتے تھے جسے دشمن فوج کے سپاہی آسانی سے اکھاڑ پھینکتے، لیکن اس قلعے کے دروازے کی آہنی میخوں کی وجہ سے یہ ممکن نہیں‌ تھا۔

اس قلعے کی تعمیر میں‌ چونے کے پتھروں اور اینٹیں‌ استعمال ہوئی ہیں جنھیں مضبوطی اور قلعے پائیداری کے نقطہ نگاہ سے خصوصی طور پر تیار کیا گیا تھا۔

سندھ کے شہر خیر پور سے کچھ مسافت پر موجود یہ قلعہ حکم رانوں کی اقامت گاہ ہی نہیں‌ تھا بلکہ اس کی تعمیر باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ ہوئی تھی اور یہی وجہ ہے کہ اسے ہر طرح سے محفوظ اور دفاعی لحاظ سے مضبوط بنانے پر خاص توجہ دی گئی ہے جب کہ اس قلعے میں‌ بند ہو کر فوج کسی مخالف اور حملہ آور لشکر کا مقابلہ بھی کرسکتی تھی۔ یہاں اس حوالے سے ایک زبردست انتظام نظر آتا ہے جس میں قلعے کی اونچی برجیاں اور چوکیاں، پانی اور اسلحے کے ذخیرہ کا انتظام شامل ہے۔ اس کے علاوہ قلعے کے اندر ہی جیل یا قید خانے، عدالت اور متعلقہ دفاتر بھی بنائے گئے تھے جب کہ حکم رانوں‌ کے قیام و طعام کے لیے کمرے بھی موجود تھے۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ جس قلعے کو دفاعی اعتبار سے مضبوط اور محفوظ ترین بنانے کے لیے اتنے جتن کیے گئے اور کئی سال اس کی تعمیر میں‌ لگائے گئے، اس میں‌ افواج کو کبھی جنگ یا اپنا دفاع کرنے کی ضرورت نہیں‌ پڑی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں