The news is by your side.

Advertisement

خیبر پختونخواہ کا بجٹ "خصوصی” کیوں ہوگیا؟ وجہ جانئے

پشاور: خیبرپختونخوا کابینہ نے بجٹ تجاویز کی منظوری دینے کے ساتھ ساتھ تاریخ بھی رقم کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق کے پی حکومت مسلسل چوتھے سال کا بجٹ پیش کرنے جارہی ہے، بجٹ کو”خود دارخیبرپختونخوا” کا ٹائٹل دیا گیا ہے، بجٹ دستاویز کےساتھ خیبرپختونخوا حکومت کی چار سالہ کارکردگی رپورٹ بھی پیش کی گئی ہے۔

کارکردگی رپورٹ کے سرورق پر عمران خان کی تصویر کے ساتھ”ہم ایک آزاد قوم ہیں، "کسی کی معافی کے محتاج نہیں” کاجملہ درج ہے۔

صوبائی کابینہ کا خصوصی اجلاس

آج وزیراعلیٰ کے پی محمود خان کی زیر صدارت کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا جس میں صوبائی بجٹ برائے دوہزار بائیس اور تئیس کی منظوری دے گئی، صوبائی بجٹ کا حجم 1332 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

صوبائی کابینہ نے تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 15فیصد اضافےکی منظوری دی، کابینہ کو بتایا گیا کہ یہ اضافہ گریڈ 1 سے 19 تک کے ملازمین کے لیے ڈی آر اے کے علاوہ ہے، اس اضافے میں پولیس کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ صوبائی کابینہ نے تاریخ میں پہلی بار63000 ملازمین کی مستقلی کی بھی منظوری دی۔

صوبائی بجٹ میں انصاف فوڈ کارڈ کے تحت 26 ارب روپے مختص کرنے کی بھی منظوری دی گئی، کابینہ نے صوبے کیلئے 418 ارب روپے پر محیط ترقیاتی بجٹ کی بھی منظوری دی اس کے علاوہ جنوری 2022 سے جگر کی پیوندکاری سمیت مزید پانچ بیماریوں کا علاج صحت کارڈ پلس میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کے پی کابینہ نے جنگلات میں لگی آگ بجھانےمیں شہید ریسکیو اہلکارکیلئےشہدا پیکج کا اعلان کیا، اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران شہید ہونے والے جنگلات کے اہلکاروں کو فی کس دس دس لاکھ روپے دینے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

بجٹ کے اہم نکات

بجٹ دستاویز کے مطابق ضم اضلاع کے لیے222ارب روپے سے زائد رکھنے کی تجویز دی گئی ہے ، تنخواہوں کےلیے440ارب روپے سے زائد مختص کئے گئے ہیں۔

بجٹ دستاویز کے مطابق قبائلی اضلاع میں چھوٹے ڈیم تعمیر کیے جائیں گے، خیبرمیڈیکل یونیورسٹی حیات آباد میں بون میرو ٹرانسپلنٹ سینٹر قائم کیا جائے گا۔

صوبے کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مدمیں68ارب50 کروڑ روپے جبکہ وفاق سے ٹیکس کی مد میں550 ارب روپے سے زائد ملیں گے۔

وفاق سے آئل، گیس رائلٹی کی مد میں30ارب روپے سے زائد رقم ملے گی، بجلی کےمنافع اور بقایاجات کی مد میں61ارب50 کروڑروپے سے زائد رقم ملنے کی توقع ہے۔

چھ سو ترپن جاری منصوبوں کے لیے90ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں، سرکاری اسکولز میں242سائنس اورآئی ٹی لیبز تعمیرکی جائیں گی، قبائلی اضلاع میں164بنیادی مراکز صحت اور15سول اسپتال بحال کیے جائیں گے۔

خیبر پختونخوا میں ڈویژن کی سطح پر پیتھالوجی لیبز قائم کی جائیں گی، قبائلی اوربندوبستی اضلاع میں جدید ڈیری فارم قائم کیے جائیں گے، بارنگ سے سوات تک61کلومیٹر روڈ تعمیرکی جائے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں