The news is by your side.

Advertisement

خیبر پختونخوا حکومت کا خواجہ سراؤں کو باعزت روزگار مہیا کرنے کا اعلان

پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے بجٹ میں خواجہ سراؤں کے لیے 200 ملین روپے مختص کیے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ رقم خواجہ سراؤں کے تحفظ اور ان کی معاونت کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر خرچ کیے جائیں گے۔

صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید کے مطابق، ’سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان خواجہ سراؤں کو ان کے پیروں پر کھڑا کر کے انہیں معاشرے کا ایک کارآمد حصہ بنایا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ بجٹ میں مختص 200 ملین روپے خواجہ سراؤں کو ہنر مند بنانے اور ان کی مختلف استعداد میں اضافے کے لیے اقدامات پر خرچ کیے جائیں گے۔

خیبر پختونخوا میں خواجہ سرا فائرنگ سے زخمی *

واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں خواجہ سراؤں پر حملوں میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ چند ہفتوں قبل ایک خواجہ سرا علیشہ کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد وہ اسپتال میں دم توڑ گئی۔ اسپتال میں علیشہ کے ساتھ بدسلوکی اور اس کی تضحیک بھی کی گئی۔

دو دن قبل ایک اور خواجہ سرا کو جنسی تعلقات قائم کرنے سے انکار پر مسلح افراد نے فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ مذکورہ خواجہ سرا تاحال اسپتال میں داخل ہے۔ ان دونوں واقعات کے بعد خواجہ سراؤں نے شدید احتجاج کیا تھا۔ علیشاہ کے ساتھیوں نے اس کا جنازہ تھانے کے سامنے رکھ کر احتجاج کیا تھا۔

خیبر پختونخوا کی شی میل ایسوسی ایشن کی صدر فرزانہ جان نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 2 سال میں 45 خواجہ سراؤں کو قتل کیا جاچکا ہے۔

پاکستان میں خواجہ سراؤں کی آمدنی کا واحد ذریعہ سڑکوں پر بھیک مانگنا، یا شادیوں اور مختلف تقریبات میں رقص کے ذریعے پیسہ کمانا ہے۔ صوبائی وزیر خزانہ کے مطابق بجٹ کے تحت انہیں قرض بھی فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ باعزت طریقہ سے اپنا روزگار کما سکیں۔

اس سے قبل صوبائی وزیر اطلاعات مشتاق غنی نے خواجہ سراؤں کے لیے مفت طبی سہولیات اور اسپتالوں میں علیحدہ کمروں کے قیام کا بھی اعلان کیا تھا۔

خواجہ سرا علیشہ کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم گرفتار *

مظفر سید کے مطابق خواجہ سراؤں کے لیے ووکیشنل ٹریننگ سینٹر بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس قسم کے ٹریننگ سینٹر پنجاب اور جنوبی سندھ کے کچھ علاقوں میں موجود ہیں تاہم خیبر پختونخوا میں یہ اپنی نوعیت کے پہلے سینٹرز ہوں گے۔

صوبائی حکومت کے اس اقدام کا خواجہ سراؤں نے خیر مقدم کیا ہے اور اسے بہترین فیصلہ قرار دیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں