پشاور : خیبرپختونخوا میں نئی کابینہ کی تشکیل پر ارکان نے وزیراعلیٰ کو کابینہ میں غیرمنتخب ارکان کی شمولیت پر مزاحمت کی دھمکی دے دی۔
تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا میں نئی کابینہ کی تشکیل پیچیدہ مرحلہ اختیار کرگئی ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیرصدارت ہونے والے پہلے پارلیمانی پارٹی اجلاس کے اندرونی احوال سامنے آگئے۔
ذرائع نے بتایا کہ ارکان اسمبلی نے کابینہ میں غیرمنتخب افراد کی شمولیت پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور وزیراعلیٰ کو کابینہ میں غیرمنتخب ارکان کی شمولیت پر مزاحمت کی دھمکی دے دی۔
اجلاس میں ارکان نے کہا کہ مزمل اسلم کے علاوہ کسی بھی غیرمنتخب شخص کو کابینہ میں شامل کرنے کی صورت میں سخت ردعمل دیا جائے گا۔
ارکان نے دو ٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ وہ مصدق عباسی، تیمور جھگڑا اور کامران بنگش کو کسی صورت کابینہ کا حصہ تسلیم نہیں کریں گے۔
ذرائع کے مطابق ارکان نے کہا کہ 89 منتخب نمائندوں میں سے جسے چاہیں کابینہ میں شامل کریں، انہیں کوئی اعتراض نہیں، لیکن اگر غیرمنتخب شخص کو شامل کیا گیا تو وہ اسمبلی کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ارکان کے تحفظات سننے کے بعد انہیں تحفظات دور کرنے اور مشاورت سے فیصلہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت کو بھی ارکان کے شدید ردعمل سے آگاہ کر دیا گیا ہے، جبکہ کابینہ کی حتمی تشکیل پر مشاورت کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


