The news is by your side.

Advertisement

ملکی تاریخ میں صحرائے تھرکی کرشنا کوہلی پہلی دلت سینیٹر بن گئیں

اسلام آباد : ملکی تاریخ میں کرشنا کوہلی پہلی دلت سینیٹر بن گئی ہیں، پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کرشنا کولھی کو ٹکٹ جاری کیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق سندھ سے اقلیتی نشست پر کرشنا کوہلی نے بطورسینیٹر حلف اٹھالیا اور ملکی تاریخ میں کرشنا کوہلی پہلی دلت سینیٹر بن گئیں۔

تھرسےتعلق رکھنے والی کرشنا اپنے والدین کے ہمراہ روایتی لباس میں سینیٹ پہنچیں تو کرشنا کوہلی کا سینیٹرز نے تالیوں سے استقبال کیا، انکی والدہ نے تھرکا ثقافتی لباس اور سفید چوڑیاں پہن رکھی تھیں۔

یاد رہے کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کرشنا کولھی کو ٹکٹ جاری کیا تھا۔

کرشنا کا تعلق برطانوی سامراج کیخلاف لڑنے والے روپلو کولھی خاندان سے ہے اور کولھی قبیلے کے ایک غریب خاندان میں فروری 1979 میں پیدا ہوئیں، وہ اور انکے اہلخانہ تین سال تک وڈیرے کی نجی جیل میں قید رہے ، نجی جیل سے رہائی پانے کے بعد تھر کی عورت کیلئے جدوجہد شروع کی تھی۔


مزید پڑھیں : پیپلز پارٹی کا تھر کی ہندو خاتون کو سینیٹ کا ٹکٹ جاری


 کرشنا کی 16 سال کی عمر میں لال چند سے شادی ہوگئی تھی، شادی کے وقت وہ نویں جماعت کی طالبہ تھیں تاہم ان کے شوہر نے انہیں تعلیم حاصل کرنے میں مدد کی اورکرشنا نے  2013 میں سوشیالوجی میں سندھ یونیورسٹی سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی

 

کرشنا سماجی کارکن ہے اور کئی برس سے تھر کی خواتین کے حقوق کیلئے کام کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ سینیٹ کا اجلاس آج صبح 10 بجے شروع ہوا جس میں نو منتخب سینیٹرز کی حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی، صدر نے سینیٹر یعقوب خان ناصر کو بطور پریذائیڈنگ افسر نامزد کیا تھا جس کے بعد انہوں نے نو منتخب ارکان سے حلف لیا۔

سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب بھی آج ہوگا، چیئرمین سینیٹ کا انتخاب جیتنے کے لیے امیدوار کو 53 ووٹ لینا لازمی ہوگا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں