site
stats
پاکستان

جامعہ کراچی دھماکہ کیس: سندھ ہائی کورٹ نے دو ملزمان بری کردیے

کراچی: جامعہ کراچی میں دھماکوں کے کیس کی سندھ ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی‘عدالت نے دو ملزمان کو بری کردیا‘ دھماکے 2010 میں کیفے ٹیریا کےنزدیک کیے گئے تھے۔

تفصیلات کے مطابق آج جسٹس صلاح الدین کی سربراہی میں سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے جامعہ کراچی دھماکہ کیس میں سزا پانے والےملزمان کی اپیل کی سماعت کی۔

انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے جامعہ کراچی میں طلبہ تنظیم امامیہ اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن کے اسٹینڈ پر دھماکہ کرنے کے الزام میں میں دوملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی تھی‘ دھماکہ اس وقت ہوا جب طلبہ ظہر کی نماز کے لئے وضو کررہے تھے۔


دھماکے کے وقت طلبہ وضو کررہے تھے


دھماکے میں واجد علی‘ امیر عباس اورعرفان حیدر نامی تین طلبہ زخمی ہوئے تھے تاہم خوش قسمتی سے اس واقعے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ نے سماعت کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے محمد عمر اورحفیظ اللہ عرف بلال نامی ملزمان کی سزا ختم کرتے ہوئے انہیں باعزت بری کردیا‘ محمد عمر کا تعلق شعبہ فوڈ سائنس جبکہ حفیظ اللہ شعبہ بین الاقوامی تعلقات کا طالب علم تھا۔

یاد رہے کہ ملزمان پردسمبر 2010 میں جامعہ کراچی میں کیفے ٹیریا کے نزدیک واقعہ طلبہ تنظیم کے اسٹینڈ پر 3 کریکر دھماکے کرنےکا الزام تھا‘ دھماکے میں تین طلبہ کو حراست میں لیا گیا تھا جن میں سے دو کو 14 سال قید اور 25 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔ جامعہ کراچی نے تینوں طلبہ کا داخلہ منسوخ کردیا تھا۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top