The news is by your side.

Advertisement

جامعہ کراچی: داخلوں کے لیے وضع کردہ آن لائن سسٹم بیٹھ گیا

کراچی: جامعہ کراچی میں داخلوں کے لیے وضع کردہ جدید نظام طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن گیا‘ داخلے کے امیدوار طالب علم احتجاج پرمجبورہوگئے۔

اے آروائی نیوز کے مطابق جامعہ کراچی کا داخلوں کے لیے متعارف کرایا گیا آن لائن سافٹ ویئر پہلے ہی دن اوور لوڈ ہوگیا جس کے سبب طلبہ و طالبات داخلے کے لیے اپلائی کرنے سے رہ گئے۔

داخلے کے امیدواروں نے جامعہ کراچی کی داخلہ کمیٹی کے دفتر کے باہر احتجاج کیا ‘ ان کا موقف تھا کہ انتظامیہ نے رہنمائی کے لیے داخلہ کیمپ بھی قائم نہیں کیا اور آن لائن سسٹم بھی صحیح کام نہیں کررہا ‘ جس کے سبب طلبہ و طالبات کو داخلے میں مشکلات پیش آرہی ہے۔

ویب سائٹ کا عکس

طلبہ وطالبات کے والدین کا موقف ہےکہ ایک لاکھ سے زائد امید وار جامعہ کراچی کے مختلف شعبہ جات میں داخلے کے لیے فارم جمع کراتے ہیں‘ آن لائن فارم کے ساتھ مینوئل طریقے سے بھی فارم وصول کیےجائیں تاکہ طالب علم اپنی سہولت کے حساب سے اپلائی کرسکیں۔

احتجاج کرتے ہوئے طالب علموں کا کہنا تھا کہ ایک تو آن لائن سسٹم کام ہی نہیں کررہا ‘ اور اگر وہ کام کرے بھی تو کراچی کے مضافات میں رہنے والے بہت سے طالب علموں کے پاس کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں ہے اس لیے انتظامیہ نئے طریقہ کار کے ساتھ پرانا طریقہ بھی جاری و ساری رکھے۔

دوسری جانب انتظامیہ کا کہنا ہے جامعہ کراچی کی آرٹس لاابی کے باہر ایک میز اور تین کرسیوں پر داخلہ کمیٹی کا عملہ موجود ہے ‘ جہاں سے طالب علم مختلف شعبہ جات میں داخلے کے نئے طریقہ کار کے حوالے سے معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔

دریں اثناءجامعہ کراچی کے ڈائریکٹر ایڈمیشن پروفیسر ڈاکٹر محمد احمد قادرے نے داخلہ فارم جمع کرانے کی تاریخ میں 28 نومبر تک کی توسیع کردی ہے۔

یونی ورسٹی انتظامیہ کی جانب اعلامیہ کے مطابق بیچلرز ،ماسٹرز ، ڈاکٹر آف فارمیسی (مارننگ و ایوننگ پروگرام)،ڈاکٹر آف فزیکل تھراپی(مارننگ پروگرام) اور شعبہ ویژول اسٹڈیز میں بیچلرز آف ڈیزائن(چارسالہ پروگرام) ،بیچلرز آف فائن آرٹس(چارسالہ پروگرام) اور بیچلرز آف آرکیٹیکچرز (پانچ سالہ پروگرام ) میں داخلوں کے لئے فارم جمع کرانے کی تاریخ میں 28 نومبر 2017 ءتک توسیع کردی گئی ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں