The news is by your side.

Advertisement

کلبھوشن کیس: بھارتی وکیل کا مضروضوں پر انحصار، شواہد پیش کرنے میں پھر ناکام

دی ہیگ : پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے کیس میں بھارتی وکیل تیسرے روز بھی عالمی عدالت میں پاکستان کے سوالات کے جواب نہیں دے سکا ،۔

تفصیلات کے مطابق عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کیس کی سماعت کے تیسرے روز بھارتی وکیل آئیں بائیں شائیں کرتے رہے، پاکستانی دلائل کے بعد بھارتی وکیل ہریش سالوے کے مضحکہ خیز دلائل مکمل ہوگئے۔

بھارتی سینئر وکیل ہریش سالوے دلائل کی بجائے مفروضے بیان کرتا رہا اور کلبھوشن کیس میں پاکستان کی جانب سے لگائے جانے والے کسی الزام پر کوئی ٹھوس دلیل نہ دے سکا۔

بھارتی وکیل ایک بار پھر کلبھوشن یادیو کے جعلی پاسپورٹ پر جواز فراہم کرنے اور اس کی ریٹائرمنٹ کا ثبوت دینے میں بھی ناکام رہا، اس کے علاوہ بھارت کلبھوشن یادیو کے ایران سے اغوا کا ثبوت دینے میں بھی اب تک ناکام رہا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کی جانب سے چھ سوالات اٹھائے جا چکے ہیں، جن میں سے سرِ فہرست یہ سوال ہے کہ دہشت گرد کمانڈر کلبھوشن بھارتی نیوی سے کب اور کیوں سبکدوش ہوا؟ کلبھوشن کو بھارتی اصلی پاسپورٹ مسلمان کے نام سے کیوں بنا کر دیا گیا؟ جس پر وہ 17 مرتبہ بھارت گیا۔

تصدق حسین جیلانی بینچ کاحصہ رہیں گے، عالمی عدالت نے فیصلہ سنا دیا

دریں اثناء عالمی عدالت نے ایڈہاک جج تبدیل نہ کرنے کی پاکستانی استدعا پر فیصلہ سنا دیا، فیصلے میں تصدق حسین جیلانی کو بینچ کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

آئی سی جے کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تصدق حسین جیلانی بینچ کاحصہ رہیں گے، ان کا آنا ممکن نہ ہو تو بعد میں اپنا فیصلہ دے سکتے ہیں۔

عالمی عدالت انصاف کا کہنا ہے کہ جسٹس (ر) تصدق حسین جیلانی نے کیس کی کارروائی میں حصہ لیا ہے، ان کو ٹرانسکرپٹ بھی بھجوائے جارہے ہیں، تصدق جیلانی عدالتی کارروائی کی ویڈیوز بھی دیکھ سکتے ہیں۔

ایڈہاک جج ایک آزاد جج کے طور پر کام کرتے ہیں، ایڈہاک جج کیلئے آنا ممکن نہ ہو تو بعد میں اپنا فیصلہ دے سکتے ہیں، صدر عالمی عدالت انصاف یوسف القبی کا کہنا ہے کہ تصدق جیلانی کی صحت یابی کیلئے پرامید ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں