The news is by your side.

Advertisement

کلبھوشن نے رحم کی درخواست نہیں‌ کی، اپیل کا آج آخری دن تھا

اسلام آباد : بھارتی جاسوس کلبھوشن کی جانب سے رحم کی اپیل دائر نہیں کی گئی، کل بھارتی جاسوس کے اپیل دائر کرنے کا آخری دن تھا۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی جاسوس کلبھوشن کی جانب سے سزائے موت پر رحم کی اپیل نہیں کی گئی ، گزشتہ روز کلبھوشن کے پاس سزائے موت کو ایپلٹ کورٹ میں چیلنج کرنے کا آخری دن تھا جو گزر گیا۔

قوانین کے مطابق کلبھوشن اپنی سزائے موت کو 40 روز میں ایپلٹ کورٹ میں چیلنج کرسکتا تھا، ایپلٹ کورٹ کے فیصلے کے60دن کے اندر آرمی چیف سے اپیل کا حق تھا، آرمی چیف کے جواب پر نظر ثانی اور رحم کی درخواست نوے روز میں صدر پاکستان کو دی جاسکتی تھی۔


مزید پڑھیں :  بھارتی جاسوس کلبھوشن یاد یو کو سزائے موت سنا دی گئی


ذرائع کے مطابق اپیل میں وہ مجرم ہوجاتاہے، جسے یہ شکایت ہو کہ اس کی جانب سے الزامات مسترد کئے جانے کے باوجود اسے سزا سنائی گئی جبکہ اس کے برعکس کلبھوشن نے اعتراف جرم کے ساتھ ساتھ پھانسی کی سزا کو بھی قبول کرلیا ہے۔

یاد رہے کہ فوجی عدالت نے 10 اپریل کو کلبھوشن کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔

اس سے قبل بھارت کلبھوشن کو بچانے کیلئے عالمی عدالت سے رجوع کر چکا ہے ، جس پر عالمی عدالت نے اپنے فیصلے میں بھارت کی کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی کی درخواست منظور کرتے ہوئے حتمی فیصلے تک کلبھوشن کی پھانسی روکنے کا حکم دیدیا تھا۔


مزید پڑھیں :کلبھوشن کیس: بھارت مطمئن نہیں کرپایا‘ پاکستان قونصلر رسائی دے، مکمل فیصلے تک پھانسی نہ دے


عدالت کا کہنا ہے کہ اپیل کے فیصلے تک پاکستان کلبھوشن کی سزا پر عملدرآمد روکنے کو یقینی بنائے۔

واضح رہے کہ بھارتی نیوی کے افسر کلبھوشن یادیو کو  3مارچ 2016 کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا، جہاں وہ ایران کے راستے پاکستان میں داخل ہوا تھا۔ جس کے بعد بھارت نے تسلیم کیا تھا کہ بلوچستان سے پکڑا جانے والا جاسوس کلبھوشن یادیو بھارتی نیوی کاافسر تھا۔

گرفتاری کے بعد کلبھوشن یادیو کے گناہوں کے اعتراف پر مبنی ایک ویڈیو بیان منظر عام پر لایا گیا تھا ، جس میں کلبھوشن نے انکشاف کیا تھا کہ وہ بلوچستان میں علیحدگی پسند بلوچوں سےملاقاتیں کرتا رہا ہے اوران ملاقاتوں میں اکثرافغانستان کی انٹلی جنس کے اہلکاربھی موجود ہوتے تھے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں