site
stats
اہم ترین

کلبھوشن کیس کی تیاری نامکمل تھی، وقت نہ ملا، حکومت کا اعتراف

اسلام آباد: حکومت نے کلبھوشن یادیو کیس میں تیاری نامکمل ہونے کا اعتراف کرلیا، مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ کلبھوشن کیس کی تیاری ٹھیک سے نہیں کی گئی،کیس کی تیاری کے لیے زیادہ وقت نہیں ملا تھا۔


ضرور پڑھیں: کلبھوشن کیس: پاکستان فیصلے تک پھانسی نہ دے، عالمی عدالت


اے آر وائی نیوز سے ٹیلی فونک گفت گو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کلبھوشن سے متعلق عالمی عدالت کا فیصلہ پہلے سے متوقع تھا،کیس کی تیاری کے لیے تین سے چار دن ملے اور اتنے کم دن میں ہم کچھ نہیں کرسکتے تھے۔

انہوں نے یقین دلایا کہ اگلے مرحلے کے لیے ہمارا کیس بہت مضبوط ہے،وکلا کی بڑی ٹیم بنا رہے ہیں،ایڈ ہاک جج کی تعیناتی بھی کی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے آئی سی جے جا کر کشمیر اور پانی کے تنازعات کا راستہ کھول دیا۔

خیال رہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ کلبھوشن کیس میں حکومت نے نااہلی اور غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا اور تیاری مکمل نہیں تھی اور اب مشیر خارجہ نے اپوزیشن جماعتوں کے الزام کی تائید کردی جس کے بعد اب ایک نیا طوفان آنے کا اندیشہ ہے۔

آج ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا ہے کہ کلبھوشن کے معاملے پر حکومت کی نااہلی نظرآئی، شکوک وشبہات بڑھ گئےہیں۔

کلبھوشن کےمعاملے پرحکومت نے نااہلی کا مظاہرہ کیا، شکوک وشبہات بڑھ گئے ہیں، خورشید شاہ

اسی ضمن میں تحریک انصاف نے حکومت پر کیس میں نااہلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سات سوالات کے جوابات مانگ لیے اور کہا ہے کہ اختیارات کے باوجود وزیر اعظم نے عالمی عدالت انصافِ میں  ایڈہاک جج مقرر کیوں نہیں کیا؟ ‘‘، ’’دفتر خارجہ نے ضروری قانونی مشاورت حاصل کیوں نہیں کی‘‘  ’’کلبھوشن کیس میں ایسے وکیل کو عالمی عدالتِ انصاف کیوں بھیجا گیا جس نے آئی سی جے کا کبھی کوئی مقدمہ لڑا ہی نہیں؟‘‘

یہ پڑھیں: کلبھوشن کیس: تحریک انصاف کے وزیر اعظم سے 7 سوالات

 یہ بھی خیال رہے کہ عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کیس کا فیصلہ جن ججز دیا ان میں بھارتی، روسی، امریکی، چینی، مصری و دیگر ممالک کے ججز شامل ہیں لیکن ایک بھی مسلم ملک سے نہیں۔

یہ پڑھیں: کلبھوشن کیس کا فیصلہ:ایک بھی جج مسلم ملک سے نہیں


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔
 
Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top