بھارتی دہشت گرد کلبھوشن کی والدہ اوراہلیہ آج پاکستان پہنچیں گیKulbhushan
The news is by your side.

Advertisement

بھارتی دہشت گردکلبھوشن کی اہلیہ اوروالدہ سےملاقات

اسلام آباد : پاکستان انسانی ہمدردی میں بھی بھارت سے آگے، بھارتی دہشت گردکلبھوشن کی اہلیہ اوروالدہ سے ملاقات ختم ہوگئی،  بھارتی دہشت گرد کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ ملاقات کیلئے پاکستان پہنچی تھیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان سفارتی محاذ پر بھی بھارت سے بہت آگے، دہشت گرد کلبھوشن سے ملاقات کیلئے ان کی بیوی اور والدہ پاکستان پہنچ گئیں، دونوں خواتین پروازای کے612 کے زریعہ دبئی کے راستے اسلام آباد پہنچیں۔

بھارتی حکام نے شیڈول میں تبدیلی کرڈالی،   بھارتی حکام کلبھوشن کی اہلیہ اوروالدہ کو  براہ راست ملاقات کے بجائے بھارتی ہائی کمیشن لےگئے، والدہ اوراہلیہ کو کلبھوشن سےملاقات کیلئے لے جانا تھا،  بھارتی ہائی کمیشن میں والدہ اہلیہ کو بریف کیا گیا۔

بھارتی دہشت گرد کلبھوشن کو سخت سیکیورٹی میں دفتر خارجہ پہنچا دیا گیا، جس کے بعد والدہ اوراہلیہ کو بھی دفترخارجہ پہنچا دیا گیا۔

کلبھوشن یادیوسےاہلخانہ کی ملاقات ختم 

کلبھوشن یادیو کی اہلیہ اوروالدہ سےملاقات ختم ہوگئی، کلبھوشن کی والدہ اہلیہ سےملاقات2بجکر15منٹ پرشروع ہوئی تھی، ملاقات تقریباً40منٹ تک جاری رہی۔

بھارتی دہشت گردکلبھوشن کی والدہ اوراہلیہ دفترخارجہ سے باہرآئی تو کلبھوشن کی والدہ نے ترجمان ڈاکٹر فیصل کاشکریہ ادا کیا۔

پاکستان کی جانب سے ڈاکٹرفاریہ بگٹی ملاقات میں موجود ہیں جبکہ بھارت کی جانب سےڈپٹی ہائی کمشنرجےپی سنگھ ملاقات میں موجود ہیں، بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنردفترخارجہ کے باہر کلبھوشن کی والدہ اہلیہ کے ساتھ رہے اور دونوں خواتین کومیڈیاسےدوررکھا۔

ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ اپناوعدہ پورا کرتے ہیں، جو وعدہ کیاوہ پوراکرکے دکھایا۔

ذرائع کے مطابق ملاقات دفترخارجہ کےآغاشاہی بلاک میں کرائی گئی، خصوصی سیکیورٹی ٹیموں نےآغاشاہی بلاک کی سیکیورٹی سنبھال لی تھی۔

کلبھوشن یادیو کی اہلخانہ سے ملاقات کے دفتر خارجہ میں انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں، دفتر خارجہ کے اطراف سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی اور پولیس سمیت دیگر سیکیورٹی اہلکاروں کے دستے بھی تعینات ہیں۔

کلبھوشن کی والدہ،بیوی کی آمدپرڈپلومیٹک انکلیو میں سیکیورٹی سخت ہیں جبکہ ریڈزون جزوی طور پر سیل ہے۔

بھارت کو کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی نہیں دی

ذرائع کے مطابق بھارت کو کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی نہیں دی گئی جبکہ ذرائع کے مطابق دھند کے باعث کلبھوشن یادیو کے اہلخانہ کی پروازتاخیر کا شکار ہوئی۔

کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ ملاقات کے بعد اسی روز واپس چلی جائے گی۔

ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرمحمد فیصل نے ٹوئٹ میں کہا کہ بانی پاکستان کی سالگرہ پرانسانی بنیادوں پرکلبھوشن یادیوکووالدہ اوراہلیہ سے ملنے کی اجازت دی ہے۔

دوسری جانب کلبھوشن سے ملاقات کے بعد کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ کو میڈیا سے بات چیت سے بھارت نے روک دیا ہے، بھارتی دفتر خارجہ نے کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ کوہدایت کی ہے کہ وہ میڈیا سے بات نہیں کریں گے جبکہ بھارتی میڈیا کو بھی پاکستان جانے کی اجازت نہیں دی۔

پاکستان نے ملاقات کی اجازت دینے کیساتھ ساتھ میڈیا سے بات کرنے کی بھی اجازت دی تھی، بھارتی میڈیا ک ویزے جاری کرنے کی پیش کش بھی کی گئی تھی، یہ بھی کہا گیا تھا کہ میڈیا کلبھوشن کی والدہ اوراہلیہ سےسوال جواب بھی کرسکے گا۔

پاکستانی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے بھارت حقیقت کاسامنا نہیں کرنا چاہتا اسی لیے کلبھوشن کی فیملی کومیڈیاسے گفتگو سے منع کردیا۔


مزید پڑھیں : کلبھوشن کے اہلخانہ کی 25 دسمبر کو پاکستان آنے کی تصدیق


اس سے قبل  بھارت نے کلبھوشن کی اہلیہ اور والدہ کی پاکستان آمد سے متعلق دفتر خارجہ کو تمام تفصیلات سے آگاہ کیا تھا، جس کے مطابق بھارتی جاسوس کی والدہ اور اہلیہ 25 دسمبر کو نجی فلائٹ کے ذریعے پاکستان آئیں گے۔

خیال رہے کہ پاکستان نے بھارتی د ہشت گرد کلبھوشن یادیو کی اہلیہ اور والدہ سے ملاقات کے لیے ویزا دینے کی ہدایات جاری کی تھی۔

یاد رہے کہ پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کلبھوشن کی اہلیہ اور والدہ کوپاکستان آنے کی دعوت دی، کلبھوشن یادیو سے اہلیہ، والدہ کی ملاقات 25 دسمبرکوہوگی، ملاقات کے لیے جگہ کے تعین کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا، بھارتی جاسوس کلبھوشن سے ملاقات کے وقت بھارتی سفارت کار ساتھ ہوگا جبکہ ملاقات کے دوران پاکستانی سفارت کار بھی موجود ہوگا۔

واضح رہے کہ کلبھوشن یادیو اس وقت پاکستان میں قید ہے، بھارتی دہشتگرد کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد اس نے پاکستان میں دہشتگرد کارروائیاں کرنے کا اعتراف کیا تھا۔

پاکستان کی فوجی عدالت نےکلبھوشن کوپھانسی کی سزاسنا رکھی ہے، جس پر بھارت نے دس مئی کو عالمی عدالتِ انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا اور سزائے موت پر عملدرآمد روکنے کی درخواست دائر کی تھی۔

جس کے بعد عالمی عدالتِ انصاف نے کلبھوشن کیس میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان بھارت کو کلبھوشن تک قونصلر رسائی دے‘ اور امید ہے کہ پاکستان عالمی عدالت کا مکمل فیصلہ آنے تک کلبھوشن کو سزا نہیں دی جائے گی۔

ستمبر 2017 میں بھارت نےعالمی عدالت میں کلبھوشن کیس پر تحریری جواب داخل کیا جبکہ پاکستان نے دسمبر 2017 کوجوابی دعوی میں بھارتی الزامات کومسترد کردیا تھا۔

کلبھوشن کیس کی سماعت آئی سی جے میں اب جنوری 2018 میں ہونے کا امکان ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں