سہگل کی آواز میں کئی فلمی گیت آج بھی مقبول ہیں تقسیمِ ہند سے پہلے کولکتہ ہندوستانی فلمی صنعت کا ایک مرکز ہوا کرتا تھا۔ اسی دور میں کندن لال سہگل نے اپنی آواز سے فلم بینوں کو اپنی جانب متوجہ کیا تھا اور پھر بڑے پردے پر بہ طور اداکار بھی فلم بینوں کو اپنے فن سے محظوظ کیا۔
کندن لال سہگل کی دل سوز آواز کے سبب نہ صرف فلم سازوں اور فلمی موسیقاروں کی نظر میں آئے بلکہ ان کے گائے ہوئے گیتوں کی وجہ سے ان کے مداحوں کی تعداد بھی بڑھتی چلی گئی۔ لوگ انھیں شوق سے سنتے تھے۔ اس فن میں کندن لال سہگل کا استاد کوئی نہیں رہا بلکہ یہ ان کی خداداد صلاحیت تھی۔ فلمی دنیا میں انھیں کے ایل سہگل کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ گلوکار سہگل رندِ بلا نوش بھی تھے اور شراب نوشی کی لت نے انھیں زیادہ عرصہ جینے نہیں دیا۔ وہ 1947ء میں آج ہی کے روز چل بسے تھے۔ سہگل کی عمر بوقتِ مرگ صرف 42 سال تھی۔
1904ء میں کندن لال سہگل جموں کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد امر چند سہگل تحصیل دار تھے اور مہاراجہ جموں و کشمیر کے ملازم تھے۔ والد کو اپنے بیٹے کے گانے کا شوق قطعاً پسند نہیں تھا، لیکن والدہ کیسر دیوی جو خود بھجن اور لوک گیت گایا کرتی تھیں، اپنے بیٹے کے شوق کو ہوا دیتی رہیں۔ ماں بیٹا اکثر گھنٹوں بیٹھ کر گیت گاتے اور مناجات پڑھتے۔ سہگل کی عمر دس سال تھی جب ایک تہوار کے موقع پر انھوں نے رام لیلا میں سیتا جی کا رول ادا کیا۔ برسوں بعد کندن لال سہگل کلکتہ کے نیو تھیٹر سے وابستہ ہوگئے اور خود کو "سیگل کشمیری” کے نام سے متعارف کروایا۔ انھوں نے اپنے کام کے بارے میں گھر والوں کو کچھ نہیں بتایا تھا۔ وہ تھیٹر میں اپنا نام بھی سہگل کے بجائے سیگل بتاتے تھے۔
یہ 1938ء کی بات ہے جب سہگل نے جالندھر میں مقیم اپنی ماں کو رقم منی آرڈر کی۔ تب انھیں معلوم ہوا کہ بیٹا گلوکار بن گیا ہے۔ بعد میں بطور گلوکار وہ کلکتہ اور بمبئی میں مشہور ہوئے اور پھر ان کی یہ شہرت ہندوستان بھر میں پھیل گئی۔ اسی زمانہ میں انھوں نے فلموں میں اداکاری بھی شروع کردی اور فلم بینوں سے داد پائی۔ گلوکار کے۔ ایل۔ سہگل نے اپنی والدہ کے ساتھ گانے کے علاوہ جمّوں ہی کے ایک صوفی پیر سلمان یوسف سے بھی اس فن کی باریکیوں کو سمجھا تھا۔ وہ اکثر ان کے سامنے ریاض کرتے تھے اور سلمان یوسف جو موسیقی اور گائیکی کا درک رکھتے تھے، انھیں کچھ نہ کچھ سکھاتے رہے۔ سہگل صاحب کی سوانح میں آیا ہے کہ وہ ایک بار استاد فیاض علی خان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے اپنی شاگردی میں لینے کی درخواست کی تو انھوں نے کہا ’تم اتنا جانتے ہو کہ میں تمہیں اور کیا سکھا سکتا ہوں۔‘ ایک قصّہ یہ بھی مشہور ہے کہ ان کے کسی گیت سے استاد عبد الکریم خان صاحب اتنے متاثر ہوئے کہ انہیں انعام کے طور پر سو روپے کا منی آرڈر بھیج دیا۔ یہ اس دور میں ایک بہت بڑی رقم تھی۔
کہتے ہیں سہگل نے وصیت کی تھی کہ ان کی ارتھی اٹھاتے ہوئے یہ گانا بجایا جائے جس کے بول تھے: جب دل ہی ٹوٹ گیا ہم جی کے کیا کریں گے!
سہگل کی شادی آشا رانی سے ہوئی تھی۔ آشا رانی ہماچل کے ایک چھوٹے سے گاؤں کی باسی تھیں۔ ان کی زندگی کا ایک قصّہ مشہور ہے کہ سہگل صاحب کی نئی فلم چنڈی داس ریلیز ہوئی تو ان دنوں وہ نئے نئے رشتۂ ازدواج سے منسلک ہوئے تھے۔ ایک روز سہگل اپنی اہلیہ اور گھر والوں کے ساتھ فلم دیکھنے آئے۔ وہاں ان کے پرستاروں نے انھیں پہچان لیا اور لوگ ان سے ملنے آتے رہے۔ اس لیے وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ زیادہ وقت نہیں گزار سکے۔ اس فلم میں بطور اداکار سہگل صاحب کی شادی کا منظر بھی تھا۔ جب پردے پر یہ سین دکھایا جارہا تھا تو سہگل صاحب اپنی نشست پر موجود نہیں تھے اور ان کی بیوی کو یہ منظر حقیقی محسوس ہوا۔ سہگل صاحب بعد میں آشا رانی کو مشکل سے یہ سمجھانے میں کام یاب ہوئے کہ وہ فلم تھی، اور اس کا حقیقت سے دور دور تک تعلق نہیں۔ اہلیہ کو یقین دلانے کی غرض سے وہ انھیں اسٹوڈیو بھی لے گئے جہاں اس فلم کی شوٹنگ ہوئی تھی۔ یہ واقعہ سہگل صاحب کی نواسی پرمندر چوپڑا کی زبانی مشہور ہوا۔ انھیں یہ بات آشا رانی نے بتائی تھی جو ان کی نانی اور سہگل صاحب کی بیوی تھیں۔
کندن لال سہگل نے کلکتہ میں ٹائپ رائٹر بنانے والی کمپنی میں سیلز مین کی نوکری بھی کی تھی۔ اسی زمانے میں ان کی ملاقات نیو تھیٹر کے بانی بی۔ این۔ سرکار سے ہوئی اور انھوں نے سہگل کی آواز کو بہت پسند کیا۔ بعد میں انھیں نیو تھیٹر کے ساتھ بطور گلوکار وابستہ ہونے کی پیشکش کی اور وہ اچھے معاوضے پر ان کے ساتھ کام کرنے لگے۔ نیو تھیٹر میں منجھے ہوئے فن کاروں اور موسیقاروں نے سہگل کے فن کو نکھارنے میں مدد دی۔ انہی موسیقاروں کی بنائی ہوئی دھنوں پر سہگل نے وہ نغمے گائے جو ہندوستان بھر میں ان کی پہچان بنے۔ ان میں فلم دیو داس کا یہ نغمہ ’دکھ کے دن اب بیتت ناہی، اور ’بالم آئے بسو میرے من میں یا فلم اسٹریٹ سنگر کا یہ گیت ’بابل مورا نہیئر چھوٹل جائے شامل ہیں۔ نیو تھیٹر کی فلموں کے لیے انھوں نے اداکاری بھی کی اور شناخت بنانے میں کام یاب ہوئے۔ انھوں نے مشہور بنگالی فلم دیو داس میں ایک معمولی کردار ادا کیا تھا اور گانے بھی گائے تھے، لیکن جب یہی فلم ہندی میں بنائی گئی تو کندن لال سہگل نے دیو داس کا مرکزی کردار ادا کیا۔ بعد میں وہ بمبئی چلے گئے اور رنجیت اسٹودیو سے وابستہ ہوئے جہاں متعدد کام یاب فلمیں ان کے حصّے میں آئیں۔
سہگل نے فلمی نغموں کے علاوہ غزلیں بھی گائیں۔ انھیں غالب سے والہانہ شغف تھا اور غالب کو بہت دل سے گایا۔ سہگل کی آخری فلم پروانہ تھی جو 1947ء میں غالباً ان کے انتقال کے بعد ریلیز ہوئی۔ ہندوستانی فلمی صنعت کے اس مشہور گلوکار نے جالندھر میں اپنا سفرِ زیست تمام کیا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


