ہفتہ, اپریل 11, 2026
اشتہار

ایران کے صوبہ کردستان میں امریکا اور اسرائیل کے حملے، 112 افراد ہلاک

اشتہار

حیرت انگیز

تہران (14 مارچ 2026): ایران کے صوبہ کردستان میں امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں 112 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

الجزیرہ نے اس واقعے کو ایک تاریک موڑ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف امریکا ایران میں زمین کارروائی کے لیے ایرانی کرد فورسز کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے، دوسری طرف اس صوبے میں اس کے حملوں سے ہونے والی ہلاکتیں ایک سو بارہ تک پہنچ گئی ہیں۔

کردستان صوبے کے ہنگامی امور کے سربراہ نے جمعے کے روز بتایا کہ ان حملوں میں کم از کم 969 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ 27 افراد عام وارڈز میں زیرِ علاج ہیں، جب کہ 5 افراد آئی سی یو میں ہیں۔

ایران کے صوبہ کردستان میں امریکا اسرائیل حملوں کے بعد ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، صوبے میں امریکا اسرائیل حملے اس قیاس آرائی کے دوران سامنے آئے ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی اور عراقی کرد گروپوں سے براہِ راست بات چیت کی ہے، اور واشنگٹن انھیں زمینی سطح پر فوجی طور پر استعمال کر کے عوامی بغاوت کو بھڑکانا چاہتا ہے۔

اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیں

تاہم، ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ کرد ایران کے خلاف کوئی حملہ شروع کریں، اور کہا کہ امریکا نہیں چاہتا کہ جنگ پہلے ہی سے زیادہ پیچیدہ ہو جائے۔

گزشتہ ہفتے ایرانی افواج نے عراق کے نیم خودمختار کردستان علاقے میں کرد گروپوں کے خلاف ایک کارروائی کی تھی، عراقی کرد خطے کی حکومت نے ان گروپوں کو ہتھیار فراہم کرنے یا انہیں ایران میں بھیجنے کے کسی منصوبے میں شامل ہونے کی تردید کی ہے۔

واضح رہے کہ کرد ایک مقامی نسلی اقلیت ہیں جو میسوپوٹیمیا کے علاقے میں پھیلی ہوئی ہے، اور بنیادی طور پر جنوب مشرقی ترکی، شمال مشرقی شام، شمالی عراق کے نیم خودمختار کردستان خطے، شمال مغربی ایران اور جنوب مغربی آرمینیا میں آباد ہیں۔ ان کی زبان اور ثقافت الگ ہے، لیکن ان کا اپنا کوئی ریاستی وجود نہیں۔ تخمینوں کے مطابق، کرد ایران کی آبادی کا تقریباً 10 فیصد ہیں، اگرچہ کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں